عید الاضحیہ

by Other Authors

Page 10 of 15

عید الاضحیہ — Page 10

12 11 يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ وَلَا يَطْعَمُ يَومَ الأَضْحَى حَتَّى يُصلّى۔(ترمذی ابواب العيدين باب في الاكل يوم الفطر قبل الخروج،حدیث نمبر542) حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ: آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے موقع پر کھائے بغیر نہ نکلتے تھے اور عیدالاضحیہ کے موقع پر نہیں کھاتے تھے جب تک نماز نہ پڑھ لیتے۔سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں : "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عید کے دن یہ سنت تھی کہ آپ صبح کچھ ناشتہ کر کے عید پڑھنے کے لئے جاتے تھے۔مگر آج کی عید کا دن کا پہلا حصہ نیم روزہ اور پچھلا حصہ قربانی ہوتا ہے اور آپ کی سنت تھی کہ عید پڑھنے سے پہلے کچھ تناول نہ فرماتے تھے۔بعد میں جا کر قربانی کے گوشت سے کھاتے تھے۔اس لئے یہ عید اپنے اندر دو نمونے رکھتی ہے کیونکہ اس کا ایک حصہ روزے کا اور دوسرا حصہ کھانے کا ہے۔یہ یقینی امر ہے کہ جس شخص نے جس عید پر خدا تعالیٰ کے قرب کی راہ تلاش کی وہی عید اس کے لئے بڑی عید ہے۔“ (خطبہ عیدالاضحیہ 6 ستمبر 1919 بمقام قادیان از الفضل قادیان 20 ستمبر 1919) نماز عید کیلئے ایک راستہ سے جانا اور دوسرے راستہ سے واپس آنا سنت ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے۔كَانَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ فِي طَرِيقِ رَجَعَ فِي غَيْرِهِ۔(ترمذی ابواب العيدين باب خروج النبي الى العيدين في طريق حدیث نمبر 541) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید کے لئے ایک راستہ سے جاتے اور دوسرے راستہ سے واپس تشریف لایا کرتے تھے۔عید کی تکبیرات کے بارہ میں روایات سے ثابت ہے کہ یہ تکبیرات 9 ذوالحجہ کی فجر سے ۱۳ ذوالحجہ کی عصر تک بلند آواز سے پڑھنی چاہئیں۔تکبیرات عید کے بارہ میں روایت ہے: وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ فِي قُيَّتِهِ بِمِنِّي فَيَسْمَعُهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، فَيُكَبِّرُونَ وَيُكَبِّرُ أَهْلُ الْأَسْوَاقِ ، حَتَّى تَرْتَجَّ مِنِّي تَكْبِيرًا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكَبِّرُ بِمِنِّي تِلْكَ الأَيَّامَ وَخَلْفَ الصَّلَوَاتِ ، وَعَلَى فِرَاشِهِ وَفِى فُسْطَاطِهِ، وَمَجْلِسِهِ وَمَمْشَاهُ تِلْكَ الأَيَّامَ جَمِيعًا وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ تُكَبِّرُ يَوْمَ النَّحْرِ وَكُنَّ النِّسَاءُ يُكَبِّرُنَ خَلْفَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزَ لَيَالِيَ التَّشْرِيقِ مَعَ الرِّجَالِ فِى الْمَسْجِدِ۔(جامع صحیح بخاری کتاب العیدین، باب تکبیر ایام منیٰ،حدیث نمبر 969) سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع فرماتے ہیں: ”جہاں تک تشریق میں صحابہ کا تکبیرات کا کہنے کا طریق ہے اس تعلق میں بخاری کتاب العیدین سے یہ روایت لی گئی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ منی میں اپنے خیمے میں ہی تکبیرات اتنی بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔کہ مسجد میں بیٹھے لوگ آپ کی آواز کوسن لیتے تھے۔خانہ کعبہ کی مسجد اور خیمہ میں بڑا فرق ہوا کرتا تھا لیکن اس قدر بلند آواز سے آپ تکبیرات پڑھا کرتے تھے کہ خانہ کعبہ میں بیٹھے لوگ انہیں سن لیا کرتے تھے اور آپ کی آواز کے ساتھ تکبیرات کہتے تھے اور بازاروں میں چلنے والے لوگ بھی تکبیرات کہتے تھے۔یہاں تک کہ منی تکبیرات سے گونج اٹھتا تھا۔بہت کثرت سے تکبیریں کہی