عید الاضحیہ — Page 9
10 9 سید نا طریقہ اسی الثانی نوراللہ مرقد فرماتے ہیں: یا د رکھو قربانیوں میں یہ حکمت نہیں کہ اُن کا گوشت یا ان کا خون خدا تعالیٰ کو پہنچتا ہے بلکہ 66 اُن میں حکمت یہ ہے کہ ان کی وجہ سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔“ قربانی کی اہمیت وفضیلت ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 57) احادیث مبارکہ میں قربانی کے کئی فضائل و برکات بیان کئے گئے ہیں۔ایک حدیث میں ہے: عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ الا الله قَالَ مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلاً أَحَبَّ إِلَى اللهِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ هِرَاقَةِ دَمٍ وَانَّهُ لَيَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا و أَظْلَافِهَا وَ اَشْعَارِهَا۔وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ بِمَكَانِ قَبْلَ أَنْ يُقَعَ عَلَى الْأَرْضِ فَطِيِّبُوا بِهَا نَفْساً۔(ابن ماجه ابواب الاضاحي باب ثواب الأضحية،حدیث نمبر3126) حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی والے دن ابن آدم کا کوئی عمل خدا تعالیٰ کو خون بہانے (یعنی قربانی کرنے ) کے عمل سے زیادہ پیارا اور محبوب نہیں اور قربانی کا جانور قیامت کے روز اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں ( پائے ) سمیت خدا کے حضور حاضر ہوگا۔( یعنی قربانی کرنے والے کے حق میں گواہی دے گا ) اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے ہاں قبولیت کا درجہ پاتا ہے۔پس تم خوش ہو جاؤ۔“ عیدالاضحیہ کے مسائل عیدین کے موقعہ پر ہر لحاظ سے ظاہری زینت کا اہتمام کرنا چاہئے۔صاف ستھرا، دھلا ہوا اور اچھا لباس پہنا جائے۔عیدین کے موقعہ پر غسل کرنا اسوہ رسول ﷺ سے ثابت ہے۔حدیث میں ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأضْحَى۔(سنن ابن ماجه ابواب اقامة الصلواة باب ما جاء في الاغتسال في العيدين،حدیث نمبر 1315) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل فرمایا کرتے تھے۔اسوۂ رسول علی سے یہ ثابت ہے کہ آپ اجتماعات بالخصوص جمعہ اور عیدین کے مواقع پر اچھی خوشبو لگا کر مسجد میں تشریف لے جاتے۔حدیث میں ہے کہ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ طيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لإحْرَامِهِ) قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيْبٍ فِيْهِ (سنن نسائی، کتاب مناسك الحج، باب اباحة الطيب عند الاحرام) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام باندھنے سے قبل اور عیدالاضحیہ کے روز ایسی خوشبو لگائی جس میں کستوری بھی شامل تھی۔کے موقع پر نماز سے فارغ ہونے کے بعد کھانا زیادہ بہتر ہے۔حدیث میں آتا ہے۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُريدةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لَا يَخْرُجُ