قربانی کا سفر — Page 42
نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم نے اپنے پریس میں ایک احمدی اخبار شائع کر رہے ہو۔جس نے عیسائیوں کی جڑوں پر تبر رکھا ہوا ہے۔چنانچہ اسے غیرت آئی اور اس نے کہہ دیا کہ آئندہ یہ تمہارا اخبار اپنے پریس میں نہیں چھاپوں گا، کیونکہ پادری اس پر بُرا مناتے ہیں۔جب یہ اخبار چھپنا بند ہو گیا تو عیسائیوں کو اس سے بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے ہمیں جواب دینے کے علاوہ اپنے اخبار میں بھی ایک نوٹ لکھا کہ ہم نے تو احمدیوں کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے۔اب ہم دیکھیں گے کہ اسلام کا خدا اُن کے لیے کیا سامان پیدا کرتا ہے۔یعنی پہلے ان کا اخبار ہمارے پریس میں چھپ جایا کرتا تھا۔اب چونکہ ہم نے انکار کر دیا ہے اور ان کے پاس اپنا پریس کوئی نہیں اس لئے اب ہم دیکھیں گے کہ یہ جو مسیح کے مقابلے میں اپنا خدا پیش کیا کرتے ہیں اس کی کیا طاقت ہے۔اگر اس میں کوئی قدرت ہے تو وہ ان کے لئے خود سامان پیدا کر دے وہ مبلغ لکھتے ہیں کہ جب میں نے یہ پڑھا تو میرے دل میں سخت تکلیف محسوس ہوئی۔اور میں نے سمجھا کہ گو ہماری تھوڑی سی جماعت ہے لیکن بہر حال میں انہیں کے پاس جا سکتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ اس موقع پر وہ ہماری مدد کریں تا کہ ہم اپنا پر یس خرید سکیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے لاری کا ٹکٹ لیا اور پونے تین سو میل کا فاصلہ پر ایک احمدی کے پاس گیا تا کہ اسے تحریک کروں کہ وہ اس کام میں حصہ لے۔۔۔۔بہر حال وہ مبلغ لکھتے ہیں کہ میں اس چیف کے پاس گیا جو ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا احمدیت میں داخل ہوا تھا اور جو کسی زمانہ میں احمدیت کا اتنا مخالف ہوا کرتا تھا کہ اس نے یہ کہا تھا کہ دریا اپنا رخ بدل سکتا ہے اور وہ نیچے سے اوپر کی طرف بہہ سکتا ہے لیکن میں احمدی نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ کی شان دیکھو کہ جونہی وہ احمدی ہوا اس کی زمین میں سے ہیروں کی کان نکل آئی اور گو قانون کے مطابق گورنمنٹ نے اس 42