قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 22 of 81

قربانی کا سفر — Page 22

دو روپئے دہاڑی کمایا کرتے تھے ، یعنی دو روپے یومیہ ان کی مزدوری تھی انہوں نے اس زمانے کے لحاظ سے بہت بڑا یعنی تمیں روپے چندہ لکھوایا۔ایک اور صاحب تھے ، وہ بھی غریب اور کمزور حال تھے۔انہوں نے دس روپے چندہ لکھوایا۔تو قربانی کرنے والوں کا یہ حال تھا۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا تعلق ہے وہ فضل ان لوگوں پر بارش کی طرح اس طرح بر سے ہیں کہ ان پر نگاہ پڑتی ہے تو قربانیاں کہتے ہوئے بھی شرم آنے لگتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان خاندانوں کی کایا پلٹ دی۔ان کی نسلوں کے رنگ بدل گئے خدا نے ایسے فضل نازل فرمائے کہ پہچانے نہیں جاتے کہ یہ کون سے خاندان تھے، کس حالت میں رہا کرتے تھے اور کس تنگی ترشی میں گزارہ کیا کرتے تھے۔وہ مزدور جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اور جس نے تمہیں روپے سے اپنے چندے کا آغاز کیا تھا آج اس کا چندہ 5000 ہزار روپے سالانہ سے زائد ہے۔اور وہ بچہ جس نے پانچ روپے کے ساتھ اپنے چندے کا آغاز کیا تھا گزشتہ سال اس کا چندہ پانچ ہزار روپے سالانہ سے زائد تھا۔پس ہر عمر کے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے نوازا ، ہر طبقے کے لوگوں کو اپنے فضل سے نوازا۔روحانی لحاظ سے بھی ان لوگوں نے بہت ترقیات حاصل کیں اور دنیوی لحاظ سے بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں رہے اور ان کی اولادوں نے بھی ان کی قربانیوں کا اتنا پھل کھایا کہ سیری کے مقام تک پہنچ گئے اور وہ فضل ابھی ختم ہونے میں نہیں آتے۔وہ ایک نسل سے تعلق رکھنے والے فضل نہیں ہیں بلکہ وہ دوسری نسل میں جاری ہیں، تیسری نسل میں بھی جاری ہیں اور یہ معاملہ آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔زمانے کے لحاظ سے بھی لمبا ہو رہا ہے اور وسعت کے لحاظ سے بھی پھیلتا جا رہا ہے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 5 نومبر 1982ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ) 22