قربانی کا سفر — Page 57
حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے ایک دلچسپ خط کا ذکر 26 اکتوبر 1984ء کے خطبہ جمعہ میں یوں فرمایا:- آج ہی میں جو ڈاک دیکھ رہا تھا اس میں ایک دلچسپ خط ملا۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے پچھلے سال اپنی آمد کا 1/3 کم لکھوایا چندہ میں اور اگر چہ آپ کی آواز میرے کانوں میں پہنچی تھی کہ اگر نہیں دے سکتے پورا تو دیانت داری سے کہہ دو ہم تمہیں معاف کر دیں گے، لیکن جھوٹ نہیں بولنا لیکن وہ ان صاحب سے غلطی ہو گئی حالانکہ تاجر آدمی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آمدن اچھی تھی۔وہ کہتے ہیں 113 لکھوا دیا اللہ تعالیٰ نے مجھے سبق اس طرح دینا تھا کہ آخر پر جب میں نے حساب کیا تو گزشتہ سال کی جو آمد تھی اس سے بعینہ 1/3 آمد ہوئی اور اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ یہ اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ بچانا چاہتا ہے۔چنانچہ میں نے پھر اس آمد پر نہیں لکھوایا بلکہ اس سے پچھلے سال کی جو زائد آمد تھی اس پر بجٹ لکھوایا جو اس سال گزر رہا ہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ میری گی ہوئی چیزیں واپس مل گئیں ، چوری کئے ہوئے مال واپس آنے شروع ہو گئے ، جو پیسے مارے گئے تھے وہ واپس آنے شروع ہو گئے اور اس سے میری آمد بڑھ خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 607) گئی۔ان شکرتم لازیدنکم کہ اگر تم شکر خداوندی بجالاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے مالوں میں اضافہ کرے گا “ کے اہل قرآنی اصول کی خوبصورت عملی جھلکیاں۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس نے 3 نومبر 2006ء کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کی قربانیوں کے جو واقعات بیان فرمائے وہ اس امر کا شاہکار ہیں کہ جب خلوص دل سے قربانی پیش کی جائے اور شکر کے مضمون کے ساتھ اسے یاد کیا 57