قربانی کا سفر — Page 66
سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہوئی اور اُن کو ملک کی شہریت بھی حاصل ہو گئی اور اُن کو کوئی وکیل وغیرہ بھی نہ کرنا پڑا۔۲- امریکہ کی منے سوٹا ریاست میں ایک احمدی طالب علم وقاص بن خالد نے صدر جماعت کے ارشاد پر اپنی جملہ بچائی ہوئی پونچھی جو وہ ساتھ لائے تھے مسجد فنڈ میں دے دی اس کے بعد مزید ایک ہزار ڈالر جمع کر کے اس کار خیر میں دے دیا۔اب وہ بہت فکر مند تھے کہ ایک ماہ بعد کرایہ وغیرہ دینا ہو گا اور مزید ٹیوشن کا انتظام کیسے ہوگا۔اس غور و فکر میں الہی تصرف یوں ہوا کہ ان کے لئے چانسلرز اسکالر شپ منظور ہو گیا اور تین ہزار ڈالر کا چیک انہیں وصول ہوا۔وہ فرماتے ہیں کہ یہ سب چندہ دینے کی برکت سے ہوا کیسے اللہ تعالیٰ بڑھا کر بلکہ کئی گنا کر کے ان ادنیٰ قربانیوں کو نوازتا ہے۔الحمد للہ نومبائعین کے برکات چندہ کے مشاہدات حضرت خلیفہ اسیح الخامس نے 6 نومبر 2011ء کو آئیوری کوسٹ کے ایک نو مبائع کا یہ ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا۔ہمارے آئیوری کوسٹ کے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ایک دوست آئیڈو وڈرا گو صاحب ( Alido Oudrago) نے 2009ء کے آخر میں بیعت کی اور بیعت کے پہلے دن سے ہی اپنی آمدنی کا حساب کر کے باقاعدہ شرح کے مطابق چندہ ادا کرنا شروع کر دیا۔اس دوران انہوں نے چندے کی بے شمار برکات کا مشاہدہ کیا۔ایک دن جماعت کے پرانے ممبران کے ساتھ ان برکات کا ذکر کر رہے تھے۔ان پرانے ممبران میں سے ایک جس نے 2004ء میں بیعت کی تھی ، ان واقعات کو سنتے ہوئے اپنا چندہ دو ہزار فرانک سے بڑھا کر پانچ ہزار فرانک سیفا کرنے کی حامی بھر لی۔کہتے ہیں کہ ابھی ادائیگی شروع نہ کی 66