قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 1 of 81

قربانی کا سفر — Page 1

خدا تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کرنے کا عمل اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ، حضرت آدم کے دو فرزندان کی پیش کردہ قربانی کا ذکر قرآن کریم میں مذکور ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے سورہ مائدہ کی آیات 28,29 میں اس واقعہ کو اس درج کیا ہے۔وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَا ابْنَى ا دَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرُبَانًا فَتُقُتِلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَ لَمْ يُتَقَبَّلُ مِنَ الأَ خَرِ قَالَ لَا فَتَلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِين۔اور اُن کے سامنے حق کے ساتھ آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ پڑھ کر سُنا جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول نہ کی گئی۔اُس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کر دوں گا۔( جوابا ) اس نے کہا یقینا اللہ متقیوں ہی کی (قربانی) قبول کرتا ہے۔لَئِنُ بَسْطُتُ إِلَى يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِمَا سِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لَا قُتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبِّ الْعَلَمِينَ اگر تو نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تا کہ تو مجھے قتل کرے (تو) میں (جوابا) تیری طرف ہاتھ بڑھانے والا نہیں تا کہ تجھے قتل کروں یقیناً میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔1