قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 39 of 81

قربانی کا سفر — Page 39

دیکھا ہو، مرد اور عورت اور بچے سب ایک خاص نشہ محبت میں چور نظر آتے تھے۔کئی عورتوں نے اپنے زیور اُتار دیئے اور بہتوں نے ایک دفعہ چندہ دے کر دوبارہ جوش آنے پر اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا شروع کر دیا۔پھر بھی جوش کو دیتا نہ دیکھ کر اپنے وفات یافتہ رشتہ داروں کے نام سے چندہ دیا کیونکہ جوش کا یہ حال تھا کہ ایک بچہ نے جو ایک غریب اور محنتی آدمی کا بیٹا ہے مجھے ساڑھے تیرہ روپے بھیجے کہ مجھے جو پیسے خرچ کے لئے ملتے تھے ان کو میں جمع کرتا رہتا تھا وہ میں سب کے سب اس چندہ کے لئے دیتا ہوں نہ معلوم کن کن اُمنگوں کے ماتحت اس بچے نے وہ پیسے جمع کئے ہوں گے لیکن اس کے مذہبی جوش نے خدا کی راہ میں ان پیسوں کے ساتھ ان اُمنگوں کو بھی قربان کر دیا۔مدرسہ احمدیہ کے غریب طالب علموں نے جو ایک سو سے بھی کم ہیں اور اکثر ان میں سے وظیفہ خوار ہیں ساڑھے تین سو روپے چندہ لکھوایا ان کی مالی حالت کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ کے لیے اپنی اشد ضروریات کے پورا کرنے سے بھی محرومی اختیار کر لی۔۔۔۔یہ حال عورتوں اور بچوں کا تھا جو بوجہ کم علم یا قلت تجربہ کے دینی ضروریات کا اندازہ پوری طرح نہیں کر سکتے تو مردوں کا کیا حال ہو گا۔اس سے خود خیال کرلیں کہ ان میں سے بڑی تعداد ایسے آدمیوں کی تھی جنہوں نے اپنی ماہوار آمد نیوں سے زیادہ چندہ لکھوایا۔بعض لوگوں کا حال مجھے معلوم ہوا کہ جو کچھ نقد پاس تھا انہوں نے دے دیا اور قرض لے کر کھانے پینے کا انتظام کیا۔ایک صاحب نے بوجہ غربت زیادہ رقم چندہ میں داخل نہیں کر سکتے تھا۔نہایت حسرت سے مجھے لکھا کہ میرے پاس اور تو کچھ نہیں میری دکان کو نیلام کر کے چندہ میں دے دیا جائے لوگوں نے بجائے آہستہ آہستہ ادا کرنے کے زیورات وغیرہ فروخت کر کے اپنے وعدے ادا کر دیئے۔39