قربانی کا سفر — Page 21
والی ہے جس کے نتیجے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچی تھی۔تب بھی کوئی پیچھے نہیں ہٹا ، بلکہ قربانیوں میں آگے بڑھتے چلے گئے۔بزرگوں کا بھی یہی عالم تھا۔امیروں کا بھی یہی عالم تھا۔متوسط طبقے کے لوگ جو سلسلے کے کاموں سے براہ راست متعلق نہیں تھے ان کی بھی یہی کیفیت تھی اور غرباء کی بھی یہی کیفیت تھی۔تمام جماعت کے ہر طبقے نے قربانی میں ایک ساتھ قدم اُٹھایا ہے۔اور آج جب اعداد و شمار پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ان کے تجزیئے سے ہرگز یہ بات سامنے نہیں آتی کہ کسی طبقے نے زیادہ قربانی کی تھی اور کسی نے کم۔امراء نے اپنی توفیق کے مطابق بہت بڑے بڑے قدم اُٹھائے۔بڑی بلند ہمتوں کے ساتھ ( دعووں کے ساتھ نہیں ) وعدے لکھوائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو پورا کیا۔اسی طرح غرباء اپنی توفیق کے مطابق، بلکہ توفیق سے بڑھ کر اس میں شامل ہوئے۔وو جوش اور ولولے کا یہ عالم ہوا کرتا تھا کہ جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان فرمایا کرتے تھے تو جو لوگ سب سے پہلے دفتر تحریک جدید میں پہنچ کر اپنے چندے لکھواتے تھے ان میں دو دوست پیش پیش تھے۔ایک کا نام محمد رمضان صاحب تھا جو مدد گار کارکن تھے اور دوسرے کا نام محمد بوٹا تانگے والا تھا۔جب تک وہ زندہ رہے ایک سال بھی اس بات سے پیچھے نہیں رہے۔خدا نے ان کو جتنی توفیق بخشی تھی ان کے مطابق وہ لکھواتے تھے اور ادائیگی میں بھی السابقون میں شامل ہوئے تھے۔اور وہ لوگ جو سب سے پہلے پرائیویٹ سیکرٹری کے باہر انتظام کر رہے ہوتے تھے (اس زمانے میں لوگ پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں پہنچا کرتے تھے ) ان میں یہ دونوں دوست پیش پیش ہوتے تھے۔مزدوروں کا یہ عالم تھا کہ سیالکوٹ کے ایک مزدور جو ان دنوں 21