قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 16 of 81

قربانی کا سفر — Page 16

از آن جمله اخویم حکیم فضل دین بھیروی ہیں۔حکیم صاحب مدروح جس قدر مجھ سے محبت اور اخلاص اور حسن ارادت اور اندرونی تعلق رکھتے ہیں میں اُس کے بیان کرنے سے قاصر ہوں۔وہ میرے بچے خیر خواہ اور دلی ہمدرد اور حقیقت شناس مرد ہیں۔بعد اس کے جو خدا تعالیٰ نے اس اشتہار کے لکھنے کے لیے مجھے توجہ دی اور اپنے الہامات خاصہ سے امیدیں دلائیں میں نے کئی لوگوں سے اس اشتہار کے لکھنے کا تذکرہ کیا کوئی مجھے سے متفق الرائے نہیں ہوا لیکن میرے یہ عزیز بھائی بغیر اس کے کہ میں ان سے ذکر کرتا خود مجھے اس اشتہار کے لکھنے کے لیے محرک ہوئے اور اس کے اخراجات کے واسطے اپنی طرف سے سو روپیہ دیا میں ان کی فراست ایمانی سے متعجب ہوں کہ اُن کے ارادہ کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے تو ارد ہو گیا۔وہ ہمیشہ در پردہ خدمت کرتے رہتے ہیں اور کئی سو روپیہ پوشیدہ طور پر محض ابتغاء لمرضات اللہ اس راہ میں دے چکے ہیں۔خدا تعالیٰ انہیں جزائے خیر بخشے (فتح اسلام ) حضرت مصلح موعودؓ حضرت منشی اروڑے خان صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں:۔” مجھے وہ نظارہ نہیں بھولتا اور نہیں بھول سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن باہر سے مجھے آواز دے کر بلوایا اور خادمہ یا کسی بچے نے بتایا کہ دروازہ پر ایک آدمی کھڑا ہے اور وہ آپ کو بلا رہا ہے۔میں باہر نکلا تو منشی اروڑے خان صاحب مرحوم کھڑے تھے۔وہ بڑے تپاک سے آگے بڑھے مجھے مصافحہ کیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے اپنی جیب سے دو یا دویا تین پونڈ نکالے اور مجھے کہا کہ یہ اماں جان کو دے دیں اور یہ کہتے ہی ان پر ایسی 16