قربانی کا سفر — Page 55
ایڈیشنل وکیل المال پاکستان لکھتے ہیں کہ سندھ میں ایک صاحب (گزشتہ دنوں جو بارشیں ہوئیں اُس کی وجہ سے سندھ کے حالات بڑے خراب ہیں ) اُن کا وعدہ پچاس ہزار روپے تھا ، کہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ فصلوں کو نقصان ہوا ہے میں نے اُن کے حالات کو دیکھتے ہوئے کہ وہ امیر آدمی تھے ، اُن کو کہا آپ کا وعدہ تو زیادہ ہونا چاہیے۔اُس پر انہوں نے اپنا وعدہ پانچ لاکھ روپے کر دیا اور اُس کی نقد ادائیگی بھی کر دی مگر چند روز کے بعد جب کہ یہ واپس حیدر آباد آچکے تھے۔انہوں نے ان کو فون کیا کہ آپ خلیفہ اسیح کے نمائندے کے طور پر میرے پاس آئے تھے اور پانچ لاکھ کا اُس وقت میں نے وعدہ کیا کیونکہ آپ نے میرے حالات دیکھتے ہوئے مجھے اتنا ہی بتایا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عہد بیعت کا تقاضا ہے کہ اس سے بڑھ کر وعدہ کروں۔جو موجود ہے اُس میں سے دوں اور انہوں نے وہیں دس لاکھ روپے کا وعدہ کر دیا۔گھر گئے تو اُن کی اہلیہ نے کہا کہ میرے جو زیورات ہیں وہ میں اپنی طرف سے تحریک جدید میں پیش کرنا چاہتی ہوں۔ان کا فون آیا کہ اب رات کا وقت ہے اور میری اہلیہ کہہ رہی ہیں کہ ابھی جا کر مرکزی نمائندے کو یہ زیورات دے کر آؤ، رات میں نہیں رکھوں گی تو انہوں نے ان کی اہلیہ کو فون پر سمجھایا کہ رات کا وقت ہے۔سندھ کے حالات ایسے ہیں کہ رات کا سفر مناسب نہیں ہے، صبح مل جائے گا۔لیکن وہ بضد تھیں کہ نہیں ابھی میں نے پہنچانا ہے۔چنانچہ پھر خاوند کو مجبوراً آنا پڑا۔لیکن جب نیت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے حضور وہ چیز پہنچ جاتی ہے۔حالات کو دیکھتے ہوئے اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔اگر حالات وہاں خراب ہیں تو رات کے وقت سفر مناسب نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور کچھ نہیں ہوا لیکن بہر حال احتیاط کرنی چاہیے۔بلا وجہ اپنے آپ کو ابتلا میں بھی نہیں ڈالنا چاہیے۔55