قربانی کا سفر — Page 15
ہوتی ہے تو فوراً خدا تعالیٰ بھیج دیتا ہے۔“ ریویو آف ریلیجنز اردو جنوری 1942ء ص 45-44) یہ واضح ثبوت ہے کہ کس طرح نیک نیتی سے پیش کی ہوئی قربانی خدا تعالیٰ نے قبول فرمائی اور آپ کا خود کفیل ہو گیا۔الحمد للہ آئیے اب صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قربانیوں پر نظر ڈالتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے خدا کے حضور اپنی مالی قربانیوں کی ایک حسین داستان رقم فرمائی۔چند ایک واقعات نمونہ کے طور پر پیش ہیں جن کا ذکر خود خلفائے احمدیت نے پیش کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف فتح اسلام میں فرماتے ہیں۔”سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام اُن کے نام اُن کے نورِ اخلاص کی طرح نور دین ہے میں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلاء کلمہ اسلام کے لیے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھے سے بھی ادا ہو سکتیں۔اُن کے دل میں تائید دین کے لیے جوش بھرا ہے اُس کے تصور سے قدرت الہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔وہ اپنے تمام مال اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو اُن کو میسر ہیں ہر وقت اللہ رسول کی اطاعت کے لیے مستعد کھڑے ہیں اور میں تجربہ سے نہ صرف حُسنِ ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک دریغ نہیں۔اور اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔15