اَدْعِیَۃُ القُرآن

by Other Authors

Page 25 of 28

اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 25

۴۹ ۴۸ انتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ۔(الزمر: ۴۷) اسے اللہ ! اسے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے الغیب اور ظاہر کا علم رکھنے والے ، تو میں اپنے بندوں کے درمیان تمام چیزوں کا فیصلہ کرنے والا ہے جن میں اختلاف کرتے ہیں۔جو شخص مسی شام ب آیات پڑھے تو اُس دن کی کوتاہی کی پیشگی تلافی کرلیتا ہے اور شام کو یہ دھا (ابو داؤد) پڑھے تو رات کی کوتاہیوں کی تلافی ہو جاتی ہے :- فسبحن الله حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ، وَلَهُ الْحَمْدُ في السَّمَوتِ وَالاَرْضِ وَعَشِيَّا وَ حِينَ تَظْهِرُونَ ، يُخْرِجُ الحَى مِنَ المَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِ الْأَرْضَ ۲۔قوم کی تکذیب پر نصرت الہی کی دُعا بعدَ مَوْتِهَا، وَكَذلِكَ تُخْرَجُونَ (الروم : ۱۸ تا ۲۰) حضرت نوح کی اس دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالی نے انہیں کشتی کے ذریعہ طوفان ترجمہ :۔پس اللہ کی تسبیح کرو جب تم شام کے وقت میں داخل ہو یا صبح کے وقت میں سے نجات عطا کی۔(المؤمنون : ۲۹٬۲۸) رب انصرني بِمَا كَذَّبُونِ (المومنون (٢٤) اے میرے رب ! میری مدد کو کیونکہ یہ لوگ مجھے جھٹلاتے ہیں۔داخل ہو۔اور آسمانوں اور زمین میں اُس کی تعریف ہے اور بعد دو پر بھی اُس کی تسبیح کرو اور اسی طرح ( عین ) دوپہر کے وقت بھی۔وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کرتا ہے۔اور اسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔کلام الہی سن کر ربانی وعدوں پر ایمان کا اظہار اہل علم مومنوں کو جب کلام الہی پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ بارگاہ الوہیت میں تم ورم دور کرنےکیلئے میں یوم پڑھنے کی دعا سجدہ ریزہ ہو کہ یہ دعا کرتے ہیں۔(بنی اسرائیل : ۱۰۸ ، ۱۰۹) سبحن رَبَّنَا انْ كَانَ وَعْدُ رَبَّنَا لَمَفْعُولًاه (بنی اسرائیل : ۱۰۹) حضرت اور دانہ بیان کرتے ہیں یہ شخص صبح یا شام سات مرتبہ یہ دعا پڑھے ان تعالی دنیا و آخرت کے بارہ میں اس کے سب ہم وغم دور کر دیتا ہے۔(التوبہ: ۱۲۹) عسى الله الا اله الاهو عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِه ہمارا رب ہر عیب سے پاک ہے اور ہمارے رب کا وعدہ ضرور پورا ہو کر ترجمہ : اللہ میرے لیے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔میں اُسی پر توکل کرتا رہنے والا ہے۔تلافی کو اس کے لیے بے تارڑ نے کی دھا نام پڑھنے حضرت عبدالله بن باس بیان کرتے ہی ی ی ی ی ی ی ل یا علیہ سلم نے فرمایا کہ و ہوں اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔اہلی بنا میں آنے اور مریم کے شر سے بچنے کی دعائیں حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ قرآن