اَدْعِیَۃُ القُرآن

by Other Authors

Page 20 of 28

اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 20

۳۹ ۳۸ انك انت التَّوَّابُ الرَّحِيمُه ( البقره : ۱۲۹) ۱۳- قوت فیصلہ صالحیت ایک شہرت اور اسے ہمارے رب! اور ہم یہ بھی التجا کرتے ہیں کہ) کہ ہم دونوں کو اپنا فرمانروا (بندہ) بنائے اور ہماری اولاد میں سے بھی اپنی ایک فرماں بردار جماعت (بتا) اور ہمیں ہمارے (مناسب حال) عبادت کے طریق بتا اور ہماری طرف (اپنے) جنت کی دُعا بی کریم صلی الہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ انسان وضو کر کے اللہ کے نام سے فضل کے ساتھ تو بقیہ فرما۔یقینا تو اپنے بندوں کی طرف) بہت تو بقیہ کرنے والا ابرا ہیم علیہ السلام کی یہ دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا کھانا پینا عطا کرتا (اور) ہار ہا نہ رحم کرنے والا ہے۔ہے، اُس کی بیماری کو گناہوں کا کفارہ بتا دیتا ہے اور اُسے سعادتمندوں والی ۶۲۔اپنے اور اولاد کے قیام عبادت اور والدین نیز تنگی اور شمار والموت نصیب ہوتی ہے گناہ اور مندر کی جھاگ کے شہداء برابر ہوں بخشے جاتے ہیں۔اُسے قوت فیصلہ اور صالحیت عطا ہوتی ہے۔اور عام مومنوں کی مغفرت کی دُعا دنیا میں اُس کا ذکر باقی رکھا جاتا ہے۔(تفسیر الدر المنشور للسیوطی جلد ہم ملت) حضرت ابن جریجی کہا کرتے تھے کہ ابرا میں اُمت ہمیشہ عبادت پر قائم رہی علامہ شعین کہتے تھے کہ حضرت نوح اور ابراہیم علیہ السلام نے عام مومن مردوں اور عورتوں کی بخشش کی جو دعا کی ہے اس سے جتنی خوشی مجھے ہوتی ہے وہ نیا جهان کے مال و دولت ملنے سے بھی نہ ہوتی۔(تفسیر الدرالمنشور للسيوطي جلد من) رب اجعلني مُقِيمَ الصَّلوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّقِ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءه رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَالْمُؤْمِنين يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُه (ابراهیم : ۴۲۷۴۱) رب هب إلى حكما و الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ ، وَاجْعَلْ لقديمَان صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ ، وَاجْعَلْنِي مِن وَرَلَهِ جَنَّةِ النَّعِيمِ (الشعراء: ۸۴ تا ۸۶) اے میرے ربت امجھے صحیح تعلیم عطا کر اور نیکیوں میں شامل کر۔اور بعد میں آنے والے لوگوں میں ہمیشہ قائم رہنے والی تعریف مجھے بخش۔اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔۶۴ غیر معمولی حکومت مطاقت کی دُعا (اے) میرے رب مجھے اور میری اولاد میں سے ہر ایک کو محمدگی سے نماز ادا کرنے والا بنا۔(اے ہمارے رب ! ہم پر فضل کر) اور میری دعا قبول فرما۔اے میرے رب ! جس دن حساب ہونے لگے اُس دن مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنوں کو بخش دے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا قبول ہوئی اور بڑے بڑے سرکش لوگ اُن کے مطیع ہو گئے۔حضرت سلمہ بین الاکوع کہتے ہیں کہ نبی کریم صل للہ علیہ وسلم جب کوئی دعا کرتے