تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 68
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۸ سورة الحاقة ( حافظ محمد یوسف صاحب کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا۔) ان کو تو سرے سے سب باتوں پر انکار ہے۔جبکہ قرآن شریف نے صداقت نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کو تقول والی دلیل پیش کی ہے۔اور حافظ صاحب اس سے انکار کرتے ہیں تو پھر کیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تو اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر لوگوں کو سنائے اور اس کو میری طرف تو منسوب کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے، حالانکہ وہ خدا کا کلام نہ ہو تو تو ہلاک ہو جائے گا۔یہی دلیل صداقت نبوت محمدیہ مولوی آل حسن صاحب اور مولوی رحمت اللہ صاحب نے نصاریٰ کے سامنے پیش کی تھی۔جو وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے اور اب یہی دلیل قرآنی ہم اپنے دعوی کی صداقت میں پیش کرتے ہیں۔حافظ صاحب اور ان کے ساتھی اکبر بادشاہ کا نام لیتے ہیں۔مگر یہ ان کی سراسر غلطی ہے۔تقول کے معنے ہیں کہ جھوٹا کلام پیش کرنا۔اگر اکبر بادشاہ نے ایسا دعویٰ کیا تھا، تو اس کا کلام پیش کریں جس میں اس نے کہا ہو کہ مجھے خدا کی طرف سے یہ یہ الہامات ہوئے ہیں۔ایسا ہی روشن دین جالندھری اور دوسرے لوگوں کا نام لیتے ہیں۔مگر کسی کے متعلق یہ نہیں پیش کر سکتے کہ اس نے کون سے جھوٹے الہامات شائع کیے ہیں۔اگر کسی کے متعلق ثابت شدہ معتبر شہادت کے ساتھ حافظ صاحب یا ان کے ساتھی یہ ثابت کر دیں کہ اس نے جھوٹا کلام خدا پر لگا یا حالانکہ خدا کی طرف سے وہ کلام نہ ہو۔اور پھر ایسا کرنے پر اس نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر عمر پائی ہو۔یعنی ایسے دعوئی پر وہ ۲۳ سال زندہ رہا ہو، تو ہم اپنی ساری کتابیں جلا دیں گے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ صفحہ ۷۶ ) صادق کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک اور نشان بھی قرار دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ اگر تو مجھ پر تقول کرے تو میں تیرا داہنا ہاتھ پکڑ لوں۔اللہ تعالیٰ پر تقول کرنے والا مفتری فلاح نہیں پاسکتا بلکہ ہلاک ہو جاتا ہے اور اب پچیس سال کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ خدا تعالیٰ کی وحی کو میں شائع کر رہا ہوں۔اگر افترا تھا تو اس تقول کی پاداش میں ضروری نہ تھا کہ خدا اپنے وعدہ کو پورا کرتا ؟ بجائے اس کے کہ وہ مجھے پکڑتا اس نے صد با نشان میری تائید میں ظاہر کئے اور نصرت پر نصرت مجھے دی۔کیا مفتریوں کے ساتھ یہی سلوک ہوا کرتا ہے؟ اور دجالوں کو ایسی ہی نصرت ملا کرتی ہے؟ کچھ تو سوچو۔ایسی نظیر کوئی پیش کرو اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں ہرگز نہ ملے گی۔الحکم جلدے نمبر۷ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۸) پیغمبر صاحب کو تو یہ حکم کہ اگر تو ایک افترا مجھے پر باندھتا تو میں تیری رگ گردن کاٹ دیتا جیسے کہ آیت