تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 67

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۶۷ سورة الحاقة بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کرتا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی اور زمین نے بھی اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا اور یہ جو میں نے کہا کہ میرے دس ہزار نشان ہیں یہ بطور کفایت لکھا گیا اور نہ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ایک سفید کتاب ہزار حجز کی بھی کتاب ہو اور اس میں میں اپنے دلائل صدق لکھنا چاہوں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ کتاب ختم ہو جائے گی اور وہ دلائل ختم نہیں ہوں گے۔(تحفة الندوة ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۹۶٬۹۵) اگر یہ نبی ہمارے پر افترا کرتا تو ہم اس کو دبنے ہاتھ سے پکڑ لیتے پھر اس کی وہ رگ کاٹ دیتے جو جان کی رگ ہے یہ آیت اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے معنوں میں عموم ہے جیسا کہ تمام قرآن شریف میں یہی محاورہ ہے کہ بظاہر اکثر امر و نہی کے مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں لیکن اُن احکام میں دوسرے بھی شریک ہوتے ہیں یا وہ احکام دوسروں کے لئے ہی ہوتے ہیں۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جو فرمایا کہ اگر وہ ہمارے پر کچھ افترا کرتا تو ہم اُس کو ہلاک کر دیتے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ غیرت اپنی ظاہر کرتا ہے کہ آپ اگر مفتری ہوتے تو آپ کو ہلاک کر دیتا مگر دوسروں کی نسبت یہ غیرت نہیں ہے اور دوسرے خواہ کیسا ہی خدا پر افترا کریں اور جھوٹے الہام بنا کر خدا کی طرف منسوب کر دیا کریں اُن کی نسبت خدا کی غیرت جوش نہیں مارتی۔یہ خیال جیسا کہ غیر معقول ہے۔ایسا ہی خدا کی تمام کتابوں کے برخلاف بھی ہے اور اب تک توریت میں بھی یہ فقرہ موجود ہے کہ جو شخص خدا پر افتر اکرے گا اور جھوٹا دعوی نبوت کا کرے گا وہ ہلاک کیا جاوے گا۔علاوہ اس کے قدیم سے علماء اسلام آیت کو تقول عَلَيْنَا کو عیسائیوں اور یہودیوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لئے بطور دلیل پیش کرتے رہے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ جب تک کسی بات میں عموم نہ ہو وہ دلیل کا کام نہیں دے سکتی۔بھلا یہ کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر افترا کرتے تو ہلاک کئے جاتے اور تمام کام بگڑ جاتا لیکن اگر کوئی دوسرا افترا کرے تو خدا ناراض نہیں ہوتا بلکہ اس سے پیار کرتا ہے اور اُس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ مہلت دیتا ہے اور اُس کی نصرت اور تائید کرتا ہے اس کا نام تو دلیل نہیں رکھنا چاہئے بلکہ یہ تو ایک دعوی ہے کہ جو خود دلیل کا محتاج ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۳ تا ۲۱۴)