تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 63

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۶۳ سورة الحاقة إذا الأَذَقْتُكَ ضِعْفَ الحَيوةِ وَضِعْفَ الْمَسَاتِ (بنی اسرائیل : ۷۶ ) ( یعنی اگر یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پر کچھ جھوٹ باندھتا تو ہم اس کو اس کی زندگی اور موت سے دو چند عذاب چکھاتے۔اس سے مراد یہ ہے کہ نہایت سخت عذاب سے ہلاک کرتے۔) محل استدلال پر بیان کیا ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ اگر کوئی شخص بطور افترا کے نبوت اور مامور من اللہ ہونے کا دعوی کرے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کے مانند ہر گز زندگی نہیں پائے گا۔ورنہ یہ استدلال کسی طرح صحیح نہیں ٹھہرے گا اور کوئی ذریعہ اس کے سمجھنے کا قائم نہیں ہوگا کیونکہ اگر خدا پر افترا کر کے اور جھوٹا دعوی مامور من اللہ ہونے کا کر کے تیئیس برس تک زندگی پالے اور ہلاک نہ ہو تو بلاشبہ ایک منکر کے لئے حق پیدا ہو جائے گا کہ وہ یہ اعتراض پیش کرے کہ جبکہ اس دروغگو نے جس کا دروغگو ہونا تم تسلیم کرتے ہو تئیس برس تک یا اس سے زیادہ عرصہ تک زندگی پالی اور ہلاک نہ ہوا تو ہم کیوں کر سمجھیں کہ ایسے کاذب کی مانند تمہارا نبی نہیں تھا۔ایک کا ذب کو تئیس برس تک مہلت مل جانا صاف اس بات پر دلیل ہے کہ ہر ایک کا ذب کو ایسی مہلت مل سکتی ہے۔پھر کو تَقَولَ عَلَيْنَا کا صدق لوگوں پر کیوں کر ظاہر ہوگا ؟ اور اس بات پر یقین کرنے کے لئے کون سے دلائل پیدا ہوں گے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افتر اکرتے تو ضرور تئیس برس کے اندر اندر ہلاک کئے جاتے لیکن اگر دوسرے لوگ افترا کریں تو وہ تئیس برس سے زیادہ مدت تک بھی زندہ رہ سکتے ہیں اور خدا ان کو ہلاک نہیں کرتا۔یہ تو وہی مثال ہے۔مثلاً ایک دوکاندار کہے کہ اگر میں اپنے دوکان کے کاروبار میں کچھ خیانت کروں یا رڈی چیزیں دوں یا جھوٹ بولوں یا کم وزن کروں تو اُسی وقت میرے پر بجلی پڑے گی اس لئے تم لوگ میرے بارے میں بالکل مطمئن رہو اور کچھ شک نہ کرو کہ کبھی میں کوئی روی چیز دوں گا یا کم وزنی کروں گا یا جھوٹ بولوں گا بلکہ آنکھ بند کر کے میری دوکان سے سودالیا کرو اور کچھ تفتیش نہ کرو تو کیا اس بیہودہ قول سے لوگ تسلی پا جائیں گے۔اور اس کے اس لغو قول کو اس کی راستبازی پر ایک دلیل سمجھ لیں گے؟ ہر گز نہیں۔معاذ اللہ ایسا قول اس شخص کی راستبازی کی ہرگز دلیل نہیں ہوسکتی بلکہ ایک رنگ میں خلق خدا کو دھوکا دینا اور ان کو غافل کرنا ہے۔ہاں دوصورت میں یہ دلیل ٹھہر سکتی ہے۔(۱) ایک یہ کہ چند دفعہ لوگوں کے سامنے یہ اتفاق ہو چکا ہو کہ اس شخص نے اپنی فروختنی اشیاء کے متعلق کچھ جھوٹ بولا ہو یا کم وزن کیا ہو یا کسی اور قسم کی خیانت کی ہو تو اسی وقت اُس پر بجلی پڑی ہو۔اور نیم مردہ کر دیا ہو۔اور یہ واقعہ جھوٹ بولنے یا خیانت یا کم وزنی کرنے کا بار بار پیش آیا ہو اور بار بار بجلی پڑی ہو یہاں تک کہ لوگوں کے دل یقین کر گئے ہوں کہ درحقیقت خیانت اور جھوٹ