تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 53

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ ۵۳ سورة الحاقة بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الحاقة بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ وَ الْشَقَتِ السَّمَاءِ فَهِيَ يَوْمَبِذٍ وَاهِيَةٌ وَ الْمَلَكُ عَلَى أَرْجَابِهَا ۖ وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبَّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَبِذٍ ثَنِيَةٌ۔جب قیامت واقع ہوگی تو آسمان پھٹ جائے گا اور ڈھیلا اور سست ہو جائے گا اور اس کی قوتیں جاری رہیں گی کیونکہ فرشتے جو آسمان اور آسمانی اجرام کے لیے جان کی طرح تھے وہ سب تعلقات کو چھوڑ کر کناروں پر چلے جائیں گے اور اس دن خدا تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے سر پر اور کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔اس آیت کی تفسیر میں شاہ عبدالعزیز صاحب لکھتے ہیں کہ در حقیقت آسمان کی بقا باعث ارواح کے ہے یعنی ملائک کے جو آسمان اور آسمانی اجرام کے لیے بطور روحوں کے ہیں اور جیسے روح بدن کی محافظ ہوتی ہے اور بدن پر تصرف رکھتی ہے اسی طرح بعض ملائک آسمان اور آسمانی اجرام پر تصرف رکھتے ہیں اور تمام اجرام سماوی ان کے ساتھ ہی زندہ ہیں اور انہیں کے ذریعہ سے صدور افعال کوا کب ہے پھر جب و ہ ملا ئک جان کی طرح اس قالب سے نکل جائیں گے تو آسمان کا نظام ان کے نکلنے سے درہم برہم ہو جائے گا جیسے جان کے نکل جانے سے قالب کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۸ تا ۱۴۰ حاشیه )