تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 51

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱ سورة القلم اس ناک پر جو سور کی طرح بہت لمبا ہو گیا ہے داغ لگا دیں گے لمبی ناک سے مراد رسوم اور ننگ و ناموس کی پابندی ہے جو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے (اے خدائے قادر مطلق ہماری قوم کے بعض لمبی ناک والوں کی ناک پر بھی اُسترہ رکھ ) اب کیوں حضرت مولوی صاحب کیا آپ کے نزدیک ان جامع لفظوں سے کوئی گالی باہر رہ گئی ہے۔اور اس جگہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ یہ ہے کہ ولید ( بن ) مغیرہ نے نرمی اختیار کر کے چاہا کہ ہم سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔اس کے جواب میں اس کے تمام پردے کھولے گئے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنین سے مداہنہ کی امید مت رکھو۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱۶، ۱۷ حاشیه ) بَعد ذلِكَ زَنِيمٍ یعنی یہ ولد الزنا ہے اور تجربہ بتلاتا ہے کہ ولد الزنا شرارت سے باز نہیں آیا کرتے۔البدر جلد اوّل نمبر ۳ مورخه ۱۴ / نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۲) ۴۹ فَاصْبِرُ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ تَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَنْظُوم خدا تعالیٰ کے فعل پر اعتراض کرنا بڑی گستاخی ہے۔یہ لوگ کس گنتی میں ہیں۔ایک نبی ( یونس ) بھی صرف لَنْ اَرْجِعَ إِلى قَوْمِي كَذَّابا کہنے سے زیر عتاب ہوا در اصل خدا تعالی کے کسی فعل پر شرح صدر نہ رکھنا بھی ایک مخفی اعتراض ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوتا ہے وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ ایسے امور میں مخاطب تو انبیاء ہوتے ہیں مگر دراصل سبق امت کو دینا منظور ہوتا ہے۔ا البدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخہ ۹ مئی ۱۹۰۷ء صفحه ۴) اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ ہمیشہ اس کا عتاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جن پر اس کے فضل اور عطایات بے شمار ہوں اور جنہیں وہ اپنے نشانات دکھا چکا ہوتا ہے۔وہ ان لوگوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتا کہ انہیں عتاب یا خطاب یا ملامت کرے جن کے خلاف اس کا آخری فیصلہ نافذ ہونا ہوتا ہے؛ چنانچہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے۔فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلُ لَهُمُ اور فرماتا وو ب وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ۔۔۔۔۔یہ حجت آمیز عتاب اس بات پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں چاہتے تھے، مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سنن کے لحاظ سے بڑے تو قف اور حلم کے ساتھ کام کرتا ہے، لیکن آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ اُن کا نام و نشان مٹا دیا۔الحکم جلد 4 نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۲ صفحه ۵)