تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 39
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۳۹ سورة القلم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القلم بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ وَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق و منظور ہے یعنی اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا متمم و کمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔مثلاً جب کہیں کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قدر طول و عرض درخت میں ہوسکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے۔اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطہ ادراک سے باہر ہو۔اور خلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اور حسن اختلاط یا نرمی و تلطف و ملائمت ( جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں ) مراد نہیں ہے بلکہ خلق بفتح خا اور خلق بضم خاد و لفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل واقعہ ہیں۔علق بفتح خا سے مراد وہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت واہب الصور کی طرف سے عطا ہوئی۔جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے۔اور خلق بضم خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنی خواص اندرونی ہیں جن کی رو سے حقیقت انسانیہ حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کلی رکھتی ہے۔پس جس قدر انسان میں من حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرہ انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن ما بہ الامتیاز ہیں۔اُن سب کا نام خُلق ہے۔اور چونکہ شجرہ فطرت انسانی