تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 31
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہی راز حقیقت یہناں ہے۔۳۱ سورة التحريم الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۷ مورخه ۶ / مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۸) أحْصَنَتُ فَرْجھا کے متعلق اس اعتراض کے جواب میں کہ یہ تہذیب کے خلاف ہے فرمایا کہ ) جو خدا تعالیٰ کو خالق سمجھتے ہیں تو کیا اس خلق کو لغو اور باطل قرار دیتے ہیں جب اس نے ان اعضا کو خلق کیا اس وقت تہذیب نہ تھی خالق مانتے ہیں اور خلق پر اعتراض نہیں کرتے تو پھر اس ارشاد پر اعتراض کیوں؟ دیکھنا یہ ہے کہ زبان عرب میں اس لفظ کا استعمال ان کے عرف کے نزدیک کوئی خلاف تہذیب امر ہے جب نہیں تو دوسری زبانوں والوں کا حق نہیں کہ اپنے عرف کے لحاظ سے اسے خلاف تہذیب ٹھہرائیں۔ہر سوسائٹی کے عرفی الفاظ اور مصطلحات الگ الگ ہیں اور تہذیب اور خلاف تہذیب امورا الگ۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰)