تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 27

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ سورة التحريم کہ خدا نے اسرائیلی مریم کے وضع حمل کے وقت مخالفوں کو عیسی کی نسبت یہ جواب دیا وَ لِنَجْعَلَةُ آيَةٌ لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِنَّا وَ كَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا ( مریم : ۲۲ ) یہی جواب خدا تعالیٰ نے میری نسبت براہین احمدیہ میں روحانی وضع حمل کے وقت جو استعارہ کے رنگ میں تھا مخالفوں کو دیا اور کہا کہ تم اپنے فریبوں سے اس کو نا بود نہیں کر سکتے میں اس کو لوگوں کے لئے رحمت کا نشان بناؤں گا اور ایسا ہونا ابتدا سے مقدر تھا۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۵۳،۵۲) ایک اور نکتہ یادر کھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ وحی یعنی ھذى إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تَسْقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جنیا یہ حضرت مریم کو اس وقت وہی ہوئی تھی کہ جب ان کا لڑ کا عیسی علیہ السلام پیدا ہوا تھا اور وہ کمزور لڑکا ہوئی تھیں اور خدا تعالیٰ نے اسی کتاب براہین احمدیہ میں میرا نام بھی مریم رکھا اور مریم صدیقہ کی طرح مجھے بھی حکم دیا کہ وَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ الصَّدِيقِينَ۔دیکھوص ۲۴۲ براہین احمدیہ۔پس یہ میری وحی یعنی ه اليك اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ صدیقیت کا جو حمل تھا اس سے بچہ پیدا ہوا جس کا نام عیسی رکھا گیا اور جب تک وہ کمزور رہا صفات مریمیہ اس کی پرورش کرتی رہیں اور جب وہ اپنی طاقت میں آیا تو اس کو پکارا يا يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى دیکھو صفحه ۵۵۶ براہین احمدیہ۔یہ وہی وعدہ تھا جو سورہ تحریم میں کیا گیا اور ضرور تھا کہ اس وعدہ کے موافق اس امت میں سے کسی کا نام مریم ہوتا اور پھر اس طرح پر ترقی کر کے اس سے عیسی پیدا ہوتا اور وہ ابن مریم کہلا تاسو وہ میں ہوں۔وحی ھر مٹی اليك مریم کو بھی ہوئی اور مجھے بھی مگر با ہم فرق یہ ہے کہ اس وقت مریم ضعف بدنی میں مبتلا تھی اور میں ضعف مالی میں مبتلا تھا۔( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۴۱٬۵۴۰) کتاب براہین احمدیہ میں اول خدا نے میرا نام مریم رکھا اور پھر فرمایا کہ میں نے اس مریم میں صدق کی رُوح پھونکنے کے بعد اس کا نام عیسی رکھ دیا گویا مریمی حالت سے عیسی پیدا ہو گیا اور اس طرح میں خدا کے کلام میں ابن مریم کہلایا۔اس بارہ میں قرآن شریف میں بھی ایک اشارہ ہے اور وہ میرے لئے بطور پیشگوئی کے ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس اُمت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسی سے حاملہ ہوگئی اور اب ظاہر ہے کہ اس اُمت میں بجز میرے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے اور خدا کا کلام باطل نہیں ضرور ہے کہ اس اُمت میں کوئی اس کا مصداق ہو۔اور خوب غور کر کے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس