تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 429
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۹ سورة الناس حضرت آدم کے ٹھوکر کھانے کا موجب ہوا تھا اور اس وقت یہ اپنے اس فریب میں کامیاب ہو گیا تھا اور آدم مغلوب ہو گیا تھا لیکن خدا نے چاہا کہ اسی طرح چھٹے دن کے آخری حصے میں آدم کو پھر پیدا کر کے یعنی آخر ہزار ششم میں جیسا کہ پہلے وہ چھٹے دن میں پیدا ہوا تھا نخاش کے مقابل پر اس کو کھڑا کرے اور اب کی دفعہ نتاش مغلوب ہو اور آدم غالب سوخدا نے آدم کی مانند اس عاجز کو پیدا کیا اور اس عاجز کا نام آدم رکھا۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے اَرَدْتُ أَنْ اسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ ادَمَ ۔ اور نیز یہ الہام خَلَقَ آدَمَ فَأَكْرَمَهُ اور نیز یہ الہام کہ يَا آدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ اور اور آدم آدم کی کی نسبت توریت کے کے پہلے باب میں یہ آیت ہے تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بناویں۔ دیکھو تو ریت باب اوّل آیت ۲۶ ۔ اور پھر کتاب دانی ایل باب نمبر ۱۲ میں لکھا ہے اور اُس وقت میکائیل (جس کا ترجمہ ہے خدا کی مانند ) وہ بڑا سردار جو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے اُٹھے گا۔ (یعنی مسیح موعود آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا ) پس میکائیل یعنی خدا کی مانند۔ در حقیقت تو ریت میں آدم کا نام ہے اور حدیث نبوی میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود آدم کے رنگ پر ظاہر ہوگا اسی وجہ سے آخری ہزار ششم اس کے لئے خاص کیا گیا کیونکہ وہ بجائے روز ششم ہے یعنی جیسا کہ روز ششم کے آخری حصے میں آدم پیدا ہوا اسی طرح ہزار ششم کے آخری حصہ میں مسیح موعود کا پیدا ہونا مقدر کیا گیا۔ اور جیسا کہ آدم نخاش کے ساتھ آزمایا گیا جس کو عربی میں خناس کہتے ہیں جس کا دوسرا نام دجال ہے ایسا ہی اس آخری آدم کے مقابل پر نتاش پیدا کیا گیا تا وہ زن مزاج لوگوں کو حیات ابدی کی طمع دے جیسا کہ حوا کو اس سانپ نے دی تھی جس کا نام توریت میں نخاش اور قرآن میں خنّاس ہے لیکن اب کی دفعہ مقدر کیا گیا کہ یہ آدم اُس نخاش پر غالب آئے گا۔ غرض اب چھ ہزار برس کے اخیر پر آدم اور نتاش کا پھر مقابلہ آ پڑا ہے اور اب وہ پرانا سانپ کاٹنے پر قدرت نہیں پائے گا جیسا کہ اوّل اُس نے حوا کو کاٹا اور پھر آدم نے اس زہر سے حصہ لیا بلکہ وہ وقت آتا ہے کہ اس سانپ سے بچے کھیلیں گے اور وہ ضرررسانی پر قادر نہیں ہوگا۔ قرآن شریف میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اس نے سورہ فاتحہ کو الضالین پر ختم کیا اور قرآن کو خناس پر۔ تا دانشمند انسان سمجھ سکے کہ حقیقت اور روحانیت میں یہ دونوں نام ایک ہی ہیں۔ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۵ حاشیه ) قرآن شریف میں چار سورتیں ہیں جو بہت پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں مسیح موعود اور اس کی جماعت کا ذکر