تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 426
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۶ سورة النّاس سورتیں قرآن شریف کی دجالی زمانہ کی خبر دے رہی ہیں اور حکم ہے کہ اس زمانہ سے خدا کی پناہ مانگو تا اس شر سے محفوظ رہو۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرور صرف آسمانی انوار اور برکات سے دور ہوں گے جن کو آسمانی مسیح اپنے ساتھ لائے گا۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۹۷،۲۹۶) اس میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی مستحق حمد کے ساتھ عارضی مستحق حمد کا بھی اشار تا ذکر فرمایا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اخلاق فاضلہ کی تکمیل ہو۔چنانچہ اس سورہ میں تین قسم کے حق بیان فرمائے ہیں۔اوّل فرمایا کہ تم پناہ مانگو اللہ کے پاس جو جامع جمیع صفات کا ملہ ہے۔اور جو رب ہے لوگوں کا۔اور ملک بھی ہے اور معبود ومطلوب حقیقی بھی ہے۔یہ سورہ اس قسم کی ہے کہ اس میں اصل توحید کو تو قائم رکھا ہے مگر معا یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ دوسرے لوگوں کے حقوق بھی ضائع نہ کریں جو ان اسماء کے مظہر ظلمی طور پر ہیں۔رب کے لفظ میں اشارہ ہے که گوحقیقی طور پر خدا ہی پرورش کرنے والا اور تکمیل تک پہنچانے والا ہے لیکن عارضی اور ظلی طور پر دو اور بھی وجود ہیں جور بوبیت کے مظہر ہیں۔ایک جسمانی طور پر دوسرار وحانی طور پر۔جسمانی طور پر والدین ہیں اور رُوحانی طور پر مرشد اور بادی ہے۔روئیداد جلسه دعا، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۶۰۲، ۶۰۳) خدا تعالیٰ نے تکمیل اخلاق فاضلہ کے لئے رَبِّ النّاس کے لفظ میں والدین اور مرشد کی طرف ایما فرمایا ہے تا کہ اس مجازی اور مشہود سلسلہ شکر گزاری سے حقیقی رب و ہادی کی شکر گزاری میں قدم اُٹھا ئیں۔اسی راز کے حل کی یہ کلید ہے کہ اس سورہ شریفہ کو ربّ الناس سے شروع فرمایا ہے۔الہ الناس سے آغا ز نہیں کیا۔چونکہ مرشد روحانی خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق اس کی توفیق و ہدایت سے تربیت کرتا ہے اس لئے وہ بھی اسی میں شامل ہے پھر دُوسرا ٹکڑا اس میں مَلِكِ النَّاسِ ہے یعنی تم پناہ مانگو خدا کے پاس جو تمہارا بادشاہ ہے۔یہ ایک اور اشارہ ہے تا لوگوں کو متمدن دنیا کے اصول سے واقف کیا جاوے اور مہذب بنایا جاوے۔حقیقی طور پر تو اللہ تعالیٰ ہی بادشاہ ہے۔مگر اس میں اشارہ ہے کہ ظلی طور پر بادشاہ ہوتے ہیں اور اسی لئے اس میں اشارہ ملک وقت کے حقوق کی نگہداشت کی طرف بھی ایما ہے۔یہاں کا فر اور مشرک اور موحد بادشاہ یعنی کسی قسم کی قید نہیں بلکہ عام طور پر ہے خواہ کسی مذہب کا بادشاہ ہو، مذہب اور اعتقاد کے حصے جدا ہیں۔قرآن میں جہاں جہاں خدا نے محسن کا ذکر فرمایا ہے وہاں کوئی شرط نہیں لگائی کہ وہ مسلمان ہو اور موحد ہو اور فلاں سلسلہ کا ہو بلکہ عام طور پر حسن کی نسبت ذکر ہے۔خواہ وہ کوئی مذہب رکھتا ہو اور پھر خدا تعالیٰ اپنے کلام پاک میں محسن کے ساتھ احسان کرنے کی سخت تاکید فرماتا ہے جیسے آیت ذیل سے ہویدا ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ