تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 425

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۴۲۵ سورة الناس بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النّاس بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ في مَلِكِ النَّاسِ في الهِ النَّاسِ ) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ 19 الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ لي مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ دجال معہود ایک شخص نہیں ہے ورنہ ناس کا نام اُس پر اطلاق نہ پاتا۔اور اس میں کیا شک ہے کہ ناس کا لفظ صرف گروہ پر بولا جاتا ہے سو جو گروہ شیطان کے وساوس کے نیچے چلتا ہے وہ دجال کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف کی اس ترتیب کا اشارہ ہے کہ وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ سے شروع کیا گیا اور اس آیت پر ختم کیا گیا ہے۔الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ۔پس لفظ ناس سے مراد اس جگہ بھی دجال ہے۔ماحصل اس سورۃ کا یہ ہے کہ تم دجال کے فتنہ سے خدا تعالی کی پناہ پکڑو۔اس سورۃ سے پہلے سورہ اخلاص ہے جو عیسائیت کے اصول کے رڈ میں ہے۔بعد اس کے سورہ فلق ہے جو ایک تاریک زمانہ اور عورتوں کی مکاری کی خبر دے رہی ہے اور پھر آخر ایسے گروہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے جو شیطان کے زیر سایہ چلتا ہے اس ترتیب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی گروہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں شیطان کہا ہے اور اخیر میں اس گروہ کے ذکر سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں اس گروہ کا غلبہ ہو گا جن کے ساتھ نظفت في العقد ہوں گی۔یعنی ایسی عیسائی عورتیں جو گھروں میں پھر کر کوشش کریں گی کہ عورتوں کو خاوندوں سے علیحدہ کریں اور عقد نکاح کو توڑیں۔خوب یا درکھنا چاہئیے کہ یہ تینوں