تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 417

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۷ سورة الاخلاص یہ معنے ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔ اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔ یہ توحید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدار ایمان ہے۔ لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۵،۱۵۴) ان کو کہہ دے کہ خدا وہی ہے جو ایک ہے اور بے نیاز ہے۔ نہ اس کا کوئی بیٹا اور نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کوئی اس کا ہم کفو ۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۹،۵۸ ) اگر آنحضرت تشریف نہ لاتے تو نبوت تو در کنار خدائی کا ثبوت بھی اس طرح نہ ملتا۔ آپ کی تعلیم سے پتہ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَ لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ کا لگا ۔ اگر توریت میں کوئی ایسی تعلیم ہوتی اور قرآن صرف اس کی تصریح ہی کرتا تو نصاریٰ کا وجود ہی کیوں ہوتا ۔ رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۵۲،۵۱) زمین و آسمان کی شہادتیں کسی مصنوعی اور بناوٹی خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں دیتیں بلکہ اس خدائے آحد ۔ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدُهُ وَلَمْ يُولَدُ کی ہستی کو دکھاتی ہیں جو زندہ اور قائم خدا ہے اور جسے اسلام پیش کرتا ہے چنانچہ پادری فنڈ رجس نے پہلے پہل ہندوستان میں آکر مذہبی مناظروں میں قدم رکھا اور اسلام پر نکتہ چینیاں کیں۔ اپنی کتاب میزان الحق میں خود ہی سوال کے طور پر لکھتا ہے کہ اگر کوئی ایسا جزیرہ ہو جہاں تثلیث کی تعلیم نہ دی گئی ہو تو کیا وہاں کے رہنے والوں پر آخرت میں مؤاخذہ تثلیث کے عقیدہ کی بناء پر ہوگا ؟“ پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ ” ان سے توحید کا مواخذہ ہو گا ۔ اس سے سمجھ لو کہ اگر تو حید کا نقش ہر ایک شے میں نہ پایا جاتا اور تثلیث ایک بناوٹی اور مصنوعی تصور نہ ہوتی تو عقیدہ توحید کی بنا پر مواخذہ کیوں ہوتا۔ 66 رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۷۱ ) نصاری کا فتنہ سب سے بڑا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک سورت قرآن شریف کی تو ساری کی ساری صرف ان کے متعلق خاص کر دی ہے یعنی سورۃ اخلاص اور کوئی سورت ساری کی ساری کسی قوم کے واسطے خاص نہیں ہے۔ اَحَدٌ خدا کا اسم ہے اور احد کا مفہوم واحد سے بڑھ کر ہے۔ حمد کے معنی ہیں ازل سے غنی بالذات جو بالکل محتاج نہ ہو ۔ اقنوم ثلثہ کے ماننے سے وہ محتاج پڑتا ہے۔ - الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۹) کہہ دو کہ وہ خدا ایک ہے۔ هُوَ خدا کا نام ہے۔ وہ ایک ۔ وہ بے نیاز ہے۔ نہ کھانے پینے کی اس کو ضرورت نہ زمان یا مکان کی حاجت نہ کسی کا باپ نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر اور بے تغیر ہے۔ یہ چھوٹی سی