تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 416
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۶ سورة الاخلاص قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ ۔ کہہ وہ معبود حقیقی جس کی طرف سب چیزیں عبودیت تامہ کی فنا کے بعد یا قہری فنا کے بعد رجوع کرتی ہیں ایک ہے باقی سب مخلوقات دو قسم فنا میں سے کسی فنا کے نیچے ہیں اور سب چیزیں اس کی محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں ۔ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وہ ایسا ہے کہ نہ تو اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے ۔ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ اور ازل سے اس کا کوئی نظیر اور مثیل نہیں ۔ یعنی وہ اپنی ذات میں نظیر اور مثیل سے پاک اور منزہ ہے ۔۔۔۔۔ دونوں سورتوں (اخلاص اور فلق ) میں ایک ہی فرقہ کا ذکر ہے صرف فرق یہ ہے کہ سورہ اخلاص میں اس فرقہ کی اعتقادی حالت کا بیان ہے اور سورۃ الفلق میں اس فرقہ کی عملی حالت کا ذکر ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۷۰ ، ۲۷۱ حاشیہ ) قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ۔۔۔۔۔ میں وہ عقیدہ جو قبول کرنے کے لائق ہے پیش کیا گیا اور پھر لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولد سکھا کر وہ عقیدہ جو رد کرنے کے لائق ہے وہ بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کے آخر میں بھی عیسائیوں کا رد ہے جیسا کہ سورت قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ - اللَّهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدُ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۸۵ حاشیہ ) وَلَمْ يُولَدُ سے سمجھا جاتا ہے۔ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۴) قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللَّهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ - وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے۔ نہ کوئی ذات اس کی ذات جیسی از لی اور ابدی یعنی انادی اور اکال ہے نہ کسی چیز کے صفات اس کی صفات کی مانند ہیں ۔ انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور بایں ہمہ غیر محدود ہے انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔ اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیر محدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں۔ اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔ اس لئے اس کی توحید قائم نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو۔ پھر اس سے آگے آیت ممدوحہ بالا کے