تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 415

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۵ سورة الاخلاص كفوا احد ہے تو شاید عیسائی اس مخلوق پرستی کی بلا سے رک جاتے۔(کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۴) ان کو کہہ دے کہ وہ سچا خدا ایک خدا ہے جو کسی کا باپ نہیں اور نہ کسی کا بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم جنس ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۵۵) تیسری دعا وَلَا الضَّائِین ہے اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ اخلاص ہے یعنی قل هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوا احد۔۔۔۔۔وہ اہم مقصد جو قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورہ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورۃ تبت اور سورۃ اخلاص اور سورۃ فلق اور سورۃ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالی کی پناہ مانگی گئی ہے۔پس افتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں سے ہوا اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۱۸) تم اے مسلمانو۔نصاری سے کہو کہ وہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی ا سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۰) قرآن نے اپنے اول میں بھی مغضوب علیہم اور ضالین کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے آخر میں بھی جیسا کہ آیت لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ بصراحت اس پر دلالت کر رہی ہے اور یہ تمام اہتمام تاکید کے لئے کیا گیا اور نیز اس لئے کہ تاسیح موعود اور غلبہ نصرانیت کی پیشگوئی نظری نہ رہے اور آفتاب کی طرح چمک اُٹھے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۲۲) آخری مظہر شیطان کے اسم دجال کا جو مظہر اتم اور اکمل اور خاتم المظاہر ہے وہ قوم ہے جس کا قرآن کے اول میں بھی ذکر ہے اور قرآن کے آخر میں بھی یعنی وہ ضالین کا فرقہ جس کے ذکر پر سورۃ فاتحہ ختم ہوتی ہے اور پھر قرآن شریف کی آخری تین سورتوں میں بھی اس کا ذکر ہے یعنی سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ ناس میں صرف یہ فرق ہے کہ سورہ اخلاص میں تو اس قوم کی اعتقادی حالت کا بیان ہے جیسا کہ فرما یا قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَد یعنی خدا ایک ہے اور احد ہے یعنی اس میں کوئی ترکیب نہیں۔نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔پس اس سورت میں تو اس قوم کے عقائد بتلائے گئے۔(تحفہ گولر و سیه، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۷۰،۲۶۹ حاشیه )