تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 414
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۴ سورة الاخلاص قرآن کریم کی صاف تعلیم یہ ہے کہ وہ خداوند وحید و حمید جو بالذات تو حید کو چاہتا ہے اس نے اپنی مخلوق کو متشارک الصفات رکھا ہے اور بعض کو بعض کا مثیل اور شبیہ قرار دیا ہے تا کسی فرد خاص کی کوئی خصوصیت جو ذات وافعال و اقوال اور صفات کے متعلق ہے اس دھو کہ میں نہ ڈالے کہ وہ فرد خاص اپنے بنی نوع سے بڑھ کر ایک ایسی خاصیت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص نہ اصلا و نہ ظلا اس کا شریک نہیں اور خدا تعالیٰ کی طرح کسی اپنی صفت میں واحد لاشریک ہے چنانچہ قرآن کریم میں سورۃ اخلاص اسی بھید کو بیان کر رہی ہے کہ احد بیت ذات وصفات خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے۔دیکھو اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۵،۴۴) کہ خدا وہ عظیم الشان خدا ہے جو اس سے پاک ہے جو کسی عورت کے پیٹ سے نکلے اور جنایا جائے اور ہر یک چیز اس کی طرف محتاج ہے اور وہ کسی کی طرف محتاج نہیں اور اس کا کوئی قرایتی اور اور ہم جنس نہیں نہ باپ نہ ماں نہ بھائی نہ بہن اور نہ کوئی ہم مرتبہ اور پھر یہ کمال کیا ہے کہ لم یکن کا لفظ جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا کسی کا بیٹا نہیں۔کسی کا جنا یا ہوا نہیں۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۶۳، ۲۶۴) وہ خدا اکیلا خدا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا۔اور نہ کوئی اس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۶) حسن ایک ایسی چیز ہے جو بالطبع دل کی طرف کھینچا جاتا ہے اور اس کے مشاہدہ سے طبعاً محبت پیدا ہوتی ہے تو حسنِ باری تعالی اس کی وحدانیت اور اس کی عظمت اور بزرگی اور صفات ہیں جیسا کہ قرآن شریف نے یہ فرمایا ہے قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ - وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ یعنی خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں سب اس کے حاجت مند ہیں۔ذرہ ذرہ اس سے زندگی پاتا ہے۔وہ کل چیزوں کے لئے مبداء فیض ہے اور آپ کسی سے فیض یاب نہیں۔وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ۔اور کیوں کر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔قرآن نے بار بار خدا کا کمال پیش کر کے اور اس کی عظمت دکھلا کے لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ دیکھو ایسا خدا دلوں کا مرغوب ہے نہ کہ مردہ اور کمزور اور کم رحم اور کم قدرت۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۷) توریت میں خدا تعالیٰ کی صفات کا ملہ کا کہیں پورے طور پر ذکر نہیں۔اگر توریت میں کوئی ایسی سورت ہوتی جیسا کہ قرآن شریف میں قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُن لَّهُ