تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 413
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّجِيمِ و احد ) ۴۱۳ سورة الاخلاص بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الاخلاص بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وج قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدُنَ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوا اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں، دیکھنا چاہیے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر یک قسم کی شراکت سے وجو دحضرت باری کا منزہ ہونا بیان فرمایا ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے۔کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں۔سو اس سورہ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور بالک الذات ہیں جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں اور وہ لم یلد ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لم یولد ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے اور وہ لم یکن له کفوا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔برائین احمد یہ چہار تحصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۱۸ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳)