تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 398

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۸ سورة النصر حقیقت پاؤ گے اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ مغفرت لغت کی رو سے ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے کسی آفت سے بچنا مقصود ہے۔مثلاً پانی درختوں کے حق میں ایک مغفرت کرنے والا عنصر ہے یعنی ان کے عیبوں کو ڈھانکتا ہے۔یہ بات سوچ لو کہ اگر کسی باغ کو برس دو برس بالکل پانی نہ ملے تو اس کی کیا شکل نکل آئے گی کیا یہ سچ نہیں کہ اس کی خوبصورتی بالکل دور ہو جائے گی اور سرسبزی اور خوشنمائی کا نام ونشان نہیں رہے گا اور وہ وقت پر کبھی پھل نہیں لائے گا اور اندر ہی اندر جل جائے گا۔اور پھول بھی نہیں آئیں گے بلکہ اس کے سبز سبز اور نرم نرم لہلہاتے ہوئے پتے چند روز ہی میں خشک ہو کر گر جائیں گے اور خشکی غالب ہو کر مجذوم کی طرح آہستہ آہستہ اس کے تمام اعضاء گرنے شروع ہو جائیں گے یہ تمام بلائیں کیوں اس پر نازل ہوں گی ؟ اس وجہ سے کہ وہ پانی جو اس کی زندگی کا مدار تھا اس نے اس کو سیراب نہیں کیا اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے كَلِمَةً طَيْبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ( ابراهيم : ۲۵) یعنی پاک کلمہ پاک درخت کی مانند : ہے پس جیسا کہ کوئی عمدہ اور شریف درخت بغیر پانی کے نشو ونما نہیں کر سکتا۔اسی طرح راستباز انسان کے کلمات طیبہ جو اس کے منہ سے نکلتے ہیں اپنی پوری سرسبزی دکھلا نہیں سکتے اور نہ نشو ونما کر سکتے ہیں جب تک وہ پاک چشمہ ان کی جڑوں کو استغفار کے نالے میں بہہ کر تر نہ کرے سوانسان کی روحانی زندگی استغفار سے ہے جس کے نالے میں ہو کر حقیقی چشمہ انسانیت کی جڑوں تک پہنچتا ہے اور خشک ہونے اور مرنے سے بچا لیتا ہے۔جس مذہب میں اس فلسفہ کا ذکر نہیں وہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر گز نہیں۔اور جس شخص نے نبی یا رسول یا راستباز یا پاک فطرت کہلا کر اس چشمہ سے منہ پھیرا ہے۔وہ ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور ایسا آدمی خدا تعالیٰ سے نہیں بلکہ شیطان سے نکلا ہے کیونکہ شیط مرنے کو کہتے ہیں پس جس نے اپنے روحانی باغ کو سر سبز کرنے کے لئے اس حقیقی چشمہ کو اپنی طرف کھینچنا نہیں چاہا اور استغفار کے نالے کو اس چشمہ سے لبالب نہیں کیا وہ شیطان ہے یعنی مرنے والا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ کوئی سرسبز درخت بغیر پانی کے زندہ رہ سکے۔ہر یک متکبر جو اس زندگی کے چشمہ سے اپنے روحانی درخت کو سرسبز کرنا نہیں چاہتا وہ شیطان ہے اور شیطان کی طرح ہلاک ہو گا۔کوئی راستباز نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے استغفار کی حقیقت سے منہ پھیرا اور اس حقیقی چشمہ سے سرسبز ہونا نہ چاہا۔ہاں سب سے زیادہ اس سرسبزی کو ہمارے سید و مولی ختم المرسلین فخر الاولین والآخرین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا اس لئے خدا نے اس کو اس کے تمام ہم منصبوں سے نور القرآن نمبر ا ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۵۵ تا ۳۵۸) زیادہ سر سبز اور معطر کیا۔