تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 383
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۳۸۳ سورة الماعون بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الماعون بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ في الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ) کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ تیس تیس برس تک برابر نماز پڑھتے ہیں پھر کورے کے کورے ہی رہتے ہیں کوئی اثر روحانیت اور خشوع و خضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا۔اس کا یہی سبب ہے کہ وہ وہ نماز پڑھتے ہیں جس پر خدا تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے۔ایسی نمازوں کے لئے ویل آیا ہے۔دیکھو جس کے پاس اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہو تو کیا کوڑیوں اور پیسوں کے لئے اسے اس کو پھینک دینا چاہیے۔ہر گز نہیں۔اول اس جو ہر کی حفاظت کا اہتمام کرے اور پھر پیسوں کو بھی سنبھالے۔اس لئے نماز کو سنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱) بعض نمازیوں پر خدا نے لعنت بھیجی ہے جیسے فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ۔ویل کے معنے لعنت کے بھی ہوتے ہیں۔پس چاہیے کہ ادا ئیگی نماز میں انسان سست نہ ہو اور نہ غافل ہو۔(البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۳۴) جو خدا کے لئے نماز نہیں پڑھتے ان کو وَيْلٌ لِلْمُصلين فرمایا۔۔۔۔امر کی بجا آوری سے ثواب ہوتا ہے لیکن اگر ریا کاری سے نماز بھی ادا کرے تو پھر اس کے لئے ویل ہے۔الحام جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۹)