تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 379

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۹ سورة الفيل فرق اور تزلزل نہ آوے۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلا ہے۔اس سے پاک عقائد پر اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ان باتوں سے اس متبرک مقام کی عظمت دلوں میں کم نہ ہونی چاہیے کیونکہ اس سے بدتر ایک زمانہ گزرا ہے کہ یہی مقدس مقام نجس مشرکوں کے قبضہ میں تھا اور انہوں نے اسے بت خانہ بنا رکھا تھا بلکہ یہ تمام مشکلات اور مصائب خوش آئند زمانے اور زندگی کے درجات ہیں دیکھو آنحضرت کے مبعوث ہونے سے پہلے بھی زمانہ کی حالت خطرناک ہوگئی تھی اور کفر وشرک اور فساد اور ناپا کی حد سے بڑھ گئے تھے تو اس ظلمت کے بعد بھی ایک نور دنیا میں ظاہر ہوا تھا اسی طرح اب بھی امید کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان مشکلات کے بعد کوئی بہتری کے سامان بھی پیدا کر دے گا اور خدا کوئی سامان اصلاح پیدا کر دے گا بلکہ اسی متبرک اور مقدس مقام پر ایک اور بھی ایسا ہی خطرناک اور نازک وقت گزر چکا تھا جس کی طرف آنحضرت کو اللہ تعالی نے توجہ دلائی۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحِبِ الْفِيلِ الحَ - غرض یہ اب تیسرا واقعہ ہے اس کی طرف بھی اللہ تعالیٰ ضرور توجہ کرے گا اور خدا کا توجہ کرنا تو پھر قہری الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۹ مورخه ۲۲ را پریل ۱۹۰۸ صفحه ۱) رنگ میں ہی ہوگا۔