تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 378
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۸ سورة الفيل کبھی اصحاب الفیل پیدا ہو گا تب ہی اللہ تعالیٰ ان کے تباہ کرنے کے لئے ان کی کوششوں کو خاک میں ملا دینے کے سامان کر دیتا ہے۔پادریوں کا اصول یہی ہے ان کی چھاتی پر اسلام ہی پتھر ہے ورنہ باقی تمام مذاہب ان کے نزدیک نامرد ہیں ہندو بھی عیسائی ہو کر اسلام کے ہی رو میں کتابیں لکھتے ہیں۔رام چندر اور ٹھا کر داس نے اسلام کی تردید میں اپنا سارا زور لگا کر کتابیں لکھی ہیں۔بات یہ ہے کہ ان کا کانشنس کہتا ہے کہ ان کی ہلاکت اسلام ہی سے ہے۔طبعی طور پر خوف ان کا ہی پڑتا ہے جن کے ذریعہ ہلاکت ہوتی ہے۔ایک مرغی کا بچہ بلی کو دیکھتے ہی چلانے لگتا ہے اسی طرح پر مختلف مذاہب کے پیرو عموماً اور پادری خصوصاً جو اسلام کی تردید میں زور لگارہے ہیں یہ اسی لئے ہے کہ ان کو یقین ہے اندر ہی اندر ان کا دل ان کو بتاتا ہے کہ اسلام ہی ایک مذہب ہے جو ملل باطلہ کو نہیں ڈالے گا۔اس وقت اصحاب الفیل کی شکل میں اسلام پر حملہ کیا گیا ہے۔مسلمانوں کی حالت میں بہت کمزوریاں ہیں۔اسلام غریب ہے۔اور اصحاب الفیل زور میں ہیں مگر اللہ تعالیٰ وہی نمونہ پھر دکھانا چاہتا ہے۔چڑیوں سے وہی کام لے گا۔ہماری جماعت ان کے مقابلہ میں کیا ہے ان کے اتفاق اور طاقت اور دولت کے سامنے نام بھی نہیں رکھتے۔لیکن ہم اصحاب الفیل کا سا واقعہ سامنے دیکھتے ہیں کہ کیسی تسلی کی آیات نازل فرمائی ہیں۔مجھے بھی یہی الہام ہوا ہے جس سے صاف صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید اپنا کام کر کے رہے گی ہاں اس پر وہی یقین رکھتے ہیں جن کو قرآن سے محبت ہے اگر قرآن سے محبت نہیں ، اسلام سے الفت نہیں وہ ان باتوں کی کب پر واہ کر سکتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۱ صفحه ۲) تو نے دیکھ لیا یعنی تو ضرور دیکھے گا کہ اصحاب الفیل یعنی وہ جو بڑے حملے والے ہیں اور جو آئے دن تیرے پر حملہ کرتے ہیں اور جیسا کہ اصحاب الفیل نے خانہ کعبہ کونا بود کرنا چاہا تھا وہ تجھے نابود کرنا چاہتے ہیں ان کا انجام کیا ہو گا ؟ یعنی ان کا وہی انجام ہو گا جو اصحاب الفیل کا ہوا۔(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۱۹) ہوگا ایک دوست نے حج کے موقع پر نا قابل برداشت تکالیف کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ اس سال حاجیوں کو اس قدر تکالیف کا سامنا کرنا پڑا کہ معلوم ہوتا تھا شاید حج بالکل بند ہو جائے۔رستہ میں پرلے درجہ کی بدامنی تھی اور طامع حریص کارکنوں نے اپنے فائدہ کی خاطر ہزاروں افراد کی پرواہ نہ کی۔فرمایا ) ہم آپ کو ایک نصیحت کرتے ہیں۔ایسا ہو کہ ان تمام امور تکالیف سے آپ کی قوت ایمانی میں کسی قسم کا