تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 374
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۴ سورة الهمزة خدا کا عذاب ایک عذاب ہے جس کو خدا بھڑ کاتا ہے اور پہلا شعلہ اس کا انسان کے اپنے دل پر سے ہی اُٹھتا ہے۔یعنی جڑ اس کی انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے ناپاک خیالات اس جہنم کے ہیزم ہیں۔پس جبکہ عذاب کا اصل تخم اپنے وجود کی ہی ناپاکی ہے جو عذاب کی صورت پر متمثل ہوتی ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ چیز جو اس عذاب کو دور کرتی ہے وہ راستبازی اور پاکیزگی ہے۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۲) دوزخ کیا چیز ہے۔دوزخ وہ آگ ہے جو دلوں پر بھڑکائی جاتی ہے یعنی انسان جب فاسد خیال اپنے دل میں پیدا کرتا ہے اور وہ ایسا خیال ہوتا ہے کہ جس کمال کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ اس کے مخالف ہوتا ہے تو جیسا کہ ایک بھوکا یا پیاسا بوجہ نہ ملنے غذا اور پانی کے آخر مر جاتا ہے ایسا ہی وہ شخص بھی جو فساد میں مشغول رہا اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اطاعت کی غذا اور پانی کو نہ پایا وہ بھی مرجاتا ہے۔پس بموجب تعلیم قرآن شریف کے بندہ ہلاکت کا سامان اپنے لئے آپ تیار کرتا ہے خدا اس پر کوئی جبر نہیں کرتا۔اس کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی اپنے حجرہ کے تمام دروازے بند کر دے اور روشنی داخل ہونے کے لئے کوئی کھڑ کی کھلی نہ رکھے تو اس میں شک نہیں کہ اس کے حجرہ کے اندر اندھیرا ہو جائے گا۔سوکھڑکیوں کا بند کر نا تو اس شخص کا فعل ہے مگر اندھیرا کر دینا یہ خدا تعالیٰ کا فعل اس کے قانونِ قدرت کے موافق ہے۔پس اسی طرح جب کوئی شخص خرابی اور گناہ کا کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنے قانونِ قدرت کی رو سے اس کے اس فعل کے بعد کوئی اپنا فعل ظاہر کر دیتا ہے جو اس کی سزا ہو جاتا ہے لیکن بایں ہمہ تو بہ کا دروازہ بند نہیں کرتا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۶۲) میں نے بعض آدمیوں کو دیکھا اور اکثروں کے حالات پڑھے ہیں جو دنیا میں مال و دولت اور دنیا کی جھوٹی لذتیں اور ہر ایک قسم کی نعمتیں اولاد احفاد رکھتے تھے۔جب مرنے لگے اور ان کو اس دنیا کے چھوڑ جانے اور ساتھ ہی ان اشیاء سے الگ ہونے اور دوسرے عالم میں جانے کا علم ہوا تو ان پر حسرتوں اور بے جا آرزوؤں کی آگ بھڑ کی اور سرد آہیں مارنے لگے۔بس یہ بھی ایک قسم کا جہنم ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں دے سکتا بلکہ اس کو گھبراہٹ اور بیقراری کے عالم میں ڈال دیتا ہے اس لئے یہ امر بھی میرے دوستوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہنا چاہیے کہ اکثر اوقات انسان اہل وعیال اور اموال کی محبت ہاں ناجائز اور بے جا محبت میں ایسا محو ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات اسی محبت کے جوش اور نشہ میں ایسے ناجائز کام کرگزرتا ہے