تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 373
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۳۷۳ سورة الهمزة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الهمزة بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَارُ اللهِ الْمُوقَدَةُ ةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَنْدَةِ دوزخی ہونے کی حالت میں اعلیٰ درجہ کے کفار ہوتے ہیں کہ قبل اس کے جو کامل طور پر دوزخ میں پڑیں ان کے دلوں پر دوزخ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَنْدَةِ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۴) جہنم کیا چیز ہے؟ وہ خدا کے غضب کی آگ ہے جو دلوں پر پڑے گی یعنی وہ دل جو بد اعمالی اور بداعتقادی کی آگ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ غضب الہی کی آگ سے اپنے آگ کے شعلوں کو مشتعل کریں گے تب یہ دونوں قسم کی آگ باہم مل کر ایسا ہی ان کو بھسم کرے گی جیسا کہ صاعقہ گرنے سے انسان بھسم ہو جاتا ہے۔پس نجات وہی پائے گا جو بد اعتقادی اور بد عملی کی آگ سے دور رہے گا۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۶۷) دوزخ وہ آگ ہے جو خدا کا غضب اس کا منبع ہے اور گناہ سے بھڑکتی ہے اور پہلے دل پر غالب ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس آگ کی اصل جڑھ وہ غم اور حسرتیں اور درد ہیں جو دل کو پکڑتے ہیں کیونکہ تمام روحانی عذاب پہلے دل سے ہی شروع ہوتے ہیں اور پھر تمام بدن پر محیط ہو جاتے ہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۳)