تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 365

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام علیہ ۳۶۵ سورة العصر بڑی تبدیلی مراد ہو نہ قیامت کبری۔(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۴۵ تا ۲۵۱ حاشیه ) میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے سوجیسا کہ آدم علیہ السلام اخیر حصہ میں پیدا ہوا ایسا ہی میری پیدائش ہوئی خدا نے منکروں کے عذروں کو توڑنے کے لئے یہ خوب بندو بست کیا ہے کہ مسیح موعود کے لئے چار ضروری علامتیں رکھ دی ہیں (۱) ایک یہ کہ اس کی پیدائش حضرت آدم کی پیدائش کے رنگ میں آخر ہزار ششم میں ہو۔(۲) دوسری یہ کہ اس کا ظہور و بروز صدی کے سر پر ہو (۳) تیسری یہ کہ اس کے دعوئی کے وقت آسمان پر رمضان کے مہینہ میں خسوف کسوف ہو (۴) چوتھی یہ کہ اس کے دعوے کے وقت میں بجائے اونٹوں کے ایک اور سواری دنیا میں پیدا ہو جائے۔اب ظاہر ہے کہ چاروں علامتیں ظہور میں آچکی ہیں۔چنانچہ مدت ہوئی کہ ہزار ششم گزر گیا اور اب قریباً پچاسواں سال اس پر زیادہ جا رہا ہے۔اور اب دنیا ہزار ہفتم کو بسر کر رہی ہے اور صدی کے سر پر سے بھی ستر کو برس گزر گئے اور خسوف کسوف پر بھی کئی سال گزر چکے اور اونٹوں کی جگہ ریل کی سواری بھی نکل آئی پس اب قیامت تک کوئی دعوی نہیں کر سکتا کہ میں مسیح موعود ہوں کیونکہ اب مسیح موعود کی پیدائش اور اُس کے ظہور کا وقت گزر گیا۔(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۵۲ حاشیه در حاشیه ) یہ باریک بھید یا در رکھنے کے لائق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث دوم میں تجلی اعظم جو اکمل اور اتم ہے وہ صرف اسم احمد کی تجلی ہے کیونکہ بعث دوم آخر ہزار ششم میں ہے اور ہزار ششم کا تعلق ستارہ مشتری کے ساتھ ہے جو کو کب ششم معجملہ مخنس گنس ہے اور اس ستارہ کی یہ تاثیر ہے کہ مامورین کو خونریزی سے منع کرتا اور عقل اور دانش اور مواد استدلال کو بڑھاتا ہے۔اس لئے اگر چہ یہ بات حق ہے کہ اس بحث دوم میں بھی اسم محمد کی تجلی سے جو جلالی تجلی ہے اور جمالی تجلی کے ساتھ شامل ہے مگر وہ جلالی تجلی بھی رُوحانی طور پر ہو کر جمالی رنگ کے مشابہ ہوگئی ہے کیونکہ اس وقت جلالی تجلی کی تاثیر قہر سیفی نہیں بلکہ قہر استدلالی ہے۔وجہ یہ کہ اس وقت کے مبعوث پر پر تو ستارہ مشتری ہے نہ پر تو مریخ۔اسی وجہ سے بار بار اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ ہزار ششم فقط اسم احمد کا مظہر ائم ہے جو جمالی تجلی کو چاہتا ہے۔(تحفہ گولز و سید روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۵۳ حاشیه ) قرآن شریف کے حروف اور اُن کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے مثلاً سورۃ والعصر کی طرف دیکھو کہ ظاہری معنوں کی رُو سے یہ بتلاتی ہے کہ یہ دنیوی زندگی جس کو انسان اس قدر غفلت سے گزار