تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 363
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۳ سورة العصر کو الف سادس یعنی ہزار ششم قرار دیا جائے۔ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو آج کی تاریخ تک تیرہ سوسترہ برس اور چھ مہینے اوپر گزر گئے تو پھر اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ چھٹا ہزار تھا تو یہ ہمارا زمانہ کہ جو تیرہ سو برس بعد آیا دنیا کی عمر کے اندر کیوں کر رہ سکتا ہے ذرہ چھ ہزار اور تیرہ سو برس کی میزان تو کرو۔غرض یہ اعتراض ہے جو اس حدیث پر ہوتا ہے جس میں لکھا ہے کہ عمر دنیا کی سات ہزار برس ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخر ہزار ششم میں مبعوث ہوئے۔اور اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک نبی کا ایک بعث ہے۔مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں اور اس پر نص قطعی آیت کریمہ وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعه : ۴) ہے۔تمام اکابر مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس امت کا آخری گروہ یعنی مسیح موعود کی جماعت صحابہ کے رنگ میں ہوں گے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح بغیر کسی فرق کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض اور ہدایت پائیں گے پس جبکہ یہ امرنص صریح قرآن شریف سے ثابت ہوا کہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض صحابہ پر جاری ہوا ایسا ہی بغیر کسی امتیاز اور تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہو گا تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور بعث ماننا پڑا جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزار ششم میں ہوگا اور اس تقریر سے یہ بات بپایہ ثبوت پہنچ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیح موعود اور مہدی معہود کے ظہور سے پورا ہوا۔غرض جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہوئے تو جو بعض حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہزار ششم کے اخیر میں مبعوث ہوئے تھے اس سے بعث دوم مراد ہے جو نص قطعی آیت كريم وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِھم سے سمجھا جاتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ نادان مولوی جن کے ہاتھ میں صرف پوست ہی پوست ہے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی انتظار کر رہے ہیں۔مگر قرآن شریف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ آنے کی بشارت دیتا ہے کیونکہ افاضہ بغیر بعث غیر ممکن ہے اور بعث بغیر زندگی کے غیر ممکن ہے اور حاصل اس آیت کریمہ یعنی وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ کا یہی ہے کہ دنیا میں زندہ رسول ایک ہی ہے یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہزار ششم میں بھی مبعوث ہو کر ایسا ہی افاضہ کرے گا جیسا کہ وہ ہزار پنجم میں افاضہ کرتا تھا اور مبعوث ہونے کے اس جگہ یہی معنی ہیں کہ جب ہزار ششم آئے گا اور مہدی موعود اس کے آخر میں ظاہر ہوگا تو گو بظاہر مہدی موعود کے توسط سے دنیا کو ہدایت ہوگی لیکن دراصل