تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 362

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام علیہ ۳۶۲ محاورہ میں داخل ہیں کوئی عقلمند اس کو تعارض نہیں سمجھے گا۔سورة العصر (۲) دوسرا پہلو جس کے رو سے اعتراض ہوتا ہے یہ ہے کہ ہمو جب اس حساب کے جو یہود اور نصاری میں محفوظ اور متواتر چلا آتا ہے جس کی شہادت اعجازی طور پر کلام معجز نظام قرآن شریف میں بکمال لطافت بیان موجود ہے جیسا کہ ہم نے متن میں مفصل بیان کر دیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام سے قمری حساب کے رُو سے ۴۷۳۹ برس بعد میں مبعوث ہوئے ہیں اور شمسی حساب کے رُو سے ۴۵۹۸ برس بعد آدم صفی اللہ حضرت نبینا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے۔پس اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہزار پنجم میں یعنی الف خامس میں ظہور فرما ہوئے نہ کہ ہزار ششم میں اور یہ حساب بہت صحیح ہے کیونکہ یہود اور نصاریٰ کے علماء کا تواتر اسی پر ہے اور قرآن شریف اس کا مصدق ہے اور کئی اور وجوہ اور دلائل عقلیہ جن کی تفصیل موجب تطویل ہے قطعی طور پر اس بات پر جزم کرتی ہیں کہ مابین سیدنا محمد مصطفیٰ اور آدم صفی اللہ میں یہی فاصلہ ہے اس سے زیادہ نہیں گو آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے کی تاریخ لاکھوں برس ہوں یا کروڑ با برس ہوں جس کا علم خدا تعالیٰ کے پاس ہے لیکن ہمارے ابو النوع آدم صفی اللہ کی پیدائش کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک یہی مدت گزری تھی یعنی ۴۷۳۹ برس بحساب قمری اور ۴۵۹۸ برس بحساب شمسی اور جبکہ قرآن اور حدیث اور تو اتر اہل کتاب سے یہی مدت ثابت ہوتی ہے تو یہ بات بدیہی البطلان ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہزار ششم کے آخر پر مبعوث ہوئے تھے کیونکہ اگر وہ آخر ہزار ششم تھا تو اب تیرہ سوسترہ اور اس کے ساتھ ملا کر سات ہزار تین سوسترہ ہوں گے حالانکہ بالا تفاق تمام احادیث کے رو سے عمر دنیا گل سات ہزار برس قرار پایا تھا تو گویا اب ہم دنیا کے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں اور گویا اب دنیا کو ختم ہوئے تین سوسترہ برس گزر گئے یہ کس قدر لغو اور بیہودہ خیال ہے جس کی طرف ہمارے علماء نے بھی تو جہ نہیں کی ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ احادیث صحیحہ متواترہ کے رُو سے عمر دنیا یعنی حضرت آدم سے لے کر اخیر تک سات ہزار برس قرار پائی تھی اور قرآن شریف میں بھی آیت إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (الحج : ۴۸) میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا اور اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کا بھی یہی مذہب ہوا اور خدا تعالیٰ کا سات دن مقرر کرنا اور اُن کے متعلق سات ستارے مقرر کرنا اور سات آسمان اور سات زمین کے طبقے جن کو ہفت اقلیم کہتے ہیں قرار دینا یہ سب اسی طرف اشارات ہیں تو پھر وہ کون سا حساب ہے جس کے رُو سے آنحضرت صلعم کے زمانہ