تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 361

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۱ سورة العصر کیا اور قتل کرنا چاہا اور اُن کے استیصال کے درپے ہوئے اور یہی خدا تعالیٰ کے حکم اور اذن سے مریخ کا اثر ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث اوّل کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلی تھا یعنی یہ بعث اول جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۴۵ تا ۲۵۳) حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ فرمایا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ عمر د نیا سات ہزار سال ہے۔اور انس بن مالک سے روایت ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک مسلمان کی حاجت براری کرے اس کے لئے عمر دنیا کے اندازہ پر دن کو روزہ رکھنا اور رات کو عبادت کرنا لکھا جاتا ہے اور عمر دنیا سات ہزار سال ہے۔دیکھو تاریخ ابن عساکر اور نیز وہی مؤلف انس سے مرفوعاً روایت کرتا ہے کہ عمر دنیا آخرت کے دنوں میں سے سات دن یعنی حسب منطوق إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ ممَّا تَعُدُّونَ (الحج : ۴۸) سات ہزار سال ہے۔اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تمہارا ہزار سال خدا کا ایک دن ہے۔ایسا ہی طبرانی نے اور نیز بیہقی نے دلائل میں اور شبلی نے روض الف میں عمر د نیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہزار سال روایت کی ہے۔ایسا ہی بطریق صحیح ابن عباس سے منقول ہے کہ دنیا سات دن ہیں اور ہر ایک دن ہزار سال کا ہے اور بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخر ہزار ہفتم میں ہے مگر یہ حدیث دو پہلو سے مورد اعتراض ہے جس کا دفع کرنا ضروری ہے۔اوّل یہ کہ اس حدیث کو بعض دوسری حدیثوں سے تناقض ہے کیونکہ دوسری احادیث میں یوں لکھا ہے کہ بعثت نبوی آخر ہزار ششم میں ہے اور اس حدیث میں ہے کہ ہزار ہفتم میں ہے پس یہ تناقض تطبیق کو چاہتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ امر واقعی اور صحیح یہی ہے کہ بعثت نبوی ہزار ششم کے آخر میں ہے جیسا کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ بالاتفاق گواہی دے رہی ہیں۔لیکن چونکہ آخر صدی کا یا مثلاً آخر ہزار کا اُس صدی یا ہزار کا سر کہلاتا ہے جو اس کے بعد شروع ہونے والا ہے اور اس کے ساتھ پیوستہ ہے اس لئے یہ محاورہ ہر ایک قوم کا ہے کہ مثلاً وہ کسی صدی کے آخری حصے کو جس پر گویا صدی ختم ہونے کے حکم میں ہے دوسری صدی پر جو اس کے بعد شروع ہونے والی ہے اطلاق کر دیتے ہیں مثلاً کہہ دیتے ہیں کہ فلاں مجدد بارھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوا تھا گو وہ گیارھویں صدی کے اخیر پر ظاہر ہوا ہو یعنی گیارھویں صدی کے چند سال رہتے اس نے ظہور کیا ہو اور پھر بسا اوقات باعث تسامح کلام یا قصور فہم راویوں کی وجہ سے یا بوجہ عدم ضبط کلمات نبویہ اور ذہول کے جو لازم نشأ بشریت ہے کسی قدر اور بھی تغیر ہو جاتا ہے۔سو اس قسم کا تعارض قابل التفات نہیں بلکہ در حقیقت یہ کچھ تعارض ہی نہیں یہ سب باتیں عادت اور