تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 360
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۰ سورة العصر أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ ( المائدة : ۴) نازل ہوئی اور انسانی نطفہ بھی اپنے تغیرات کے چھٹے مرتبہ ہی خلقتِ بشری سے پورا حصہ پاتا ہے جس کی طرف آیت ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا آخَر (المؤمنون : ۱۵) میں اشارہ ہے۔ اور مراتب ستہ یہ ہیں (۱) نطفہ (۲) علقہ (۳) مضغہ (۴) عظام (۵) لحم محیط العظام (۶) خلق آخر ، اس قانون قدرت سے جو روز ششم اور مرتبہ ششم کی نسبت معلوم ہو چکا ہے ماننا پڑتا ہے کہ دنیا کی عمر کا ہزار ششم بھی یعنی اس کا آخری حصہ بھی جس میں ہم ہیں کسی آدم کے پیدا ہونے کا وقت اور کسی دینی تکمیل کے ظہور کا زمانہ ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کا یہ الہام کہ أَرَدْتُ أَنْ اسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ أَدَمَ اور یہ الہام کہ لِيُظْهِرَةً عَلَی الدِّینِ محلہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ اور یاد رہے کہ اگر چہ قرآن شریف کے ظاہر الفاظ میں عمر دنیا کی سبت کچھ ذکر نہیں۔ لیکن قرآن میں بہت سے ایسے اشارات بھرے پڑے ہیں جن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عمر دنیا یعنی دور آدم کا زمانہ سات ہزار سال ہے۔ چنانچہ منجملہ ان اشارات قرآنی کے ایک یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے یعنی تیس برس کا تمام و کامل زمانہ یہ کل مدت گذشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ۴۷۳۹ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روز وفات تک قمری حساب سے ہیں ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الف خامس میں جو مریخ کی طرف منسوب ہے مبعوث ہوئے ہیں اور شمسی حساب سے یہ مدت ۴۵۹۸ ہوتی ہے اور عیسائیوں کے حساب سے جس پر تمام مدار بائبل کا رکھا گیا ہے ۴۶۳۶ برس ہیں ۔ یعنی حضرت آدم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اخیر زمانہ تک ۴۶۳۶ برس ہوتے ہیں اس سے ظاہر ہوا کہ قرآنی حساب جو سورۃ العصر کے اعداد سے معلوم ہوتا ہے اور عیسائیوں کی بائبل کے حساب میں جس کے رو سے بائبل کے حاشیہ پر جابجا تاریخیں لکھتے ہیں صرف ٹھتیس برس کا فرق ہے۔ اور یہ قرآن شریف کے علمی معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے جس پر تمام افراد امت محمدیہ میں سے خاص مجھ کو جو میں مہدی آخر الزمان ہوں اطلاع دی گئی ہے تا قرآن کا یہ علمی معجزہ اور نیز اس سے اپنے دعوے کا ثبوت لوگوں پر ظاہر کروں۔ اور اِن دونوں حسابوں کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ جس کی خدا تعالیٰ نے سورۃ والعصر میں قسم کھائی الف خامس ہے یعنی ہزار پنجم جو مریخ کے اثر کے ماتحت ہے۔ اور یہی ستر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن مفسدین کے قتل اور خونریزی کے لئے حکم فرمایا گیا جنہوں نے مسلمانوں کو قتل