تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 356

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۵۶ سورة العصر وَالشُّبْهَةِ نَظرًا إلى زَمَانِ الْمِلَّةِ الْمُوْسَوِيَّةِ بغیر کسی شک وشبہ کے اس سے چار گنا وقت گزر چکا ہے۔فَمَا بَقِيَ لِظُهُورِ هَذِهِ الْأَنْبَاءِ وَقُتُ، وَاضْطَرَ پس نزول عیسی اور دیگر اخبار کے ظہور کے لئے اب کوئی الْمُنْتَظِرُونَ إِلى أَن يَقُولُوا إِنَّهَا بَاطِلَةٌ في وقت باقی نہیں رہ گیا اور ان خبروں کے منتظر یہ کہنے پر الْحَقِيقَةِ۔وَ مَا بَقِيَ سَبِيلٌ لِتَصْدِيقِهَا إِلَّا مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ سب خبریں بالکل جھوٹ ہیں اور أَن يُقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَخْبَارٌ قَدْ وَقَعَتْ وَقَدْ ان کی تصدیق کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا سوائے اس کے نَزَلَ عِيسَى النَّازِلُ وَ خَرَجَ الدَّجَّالُ کہ یہ کہا جائے کہ یہ پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں اور نازل الْخَارِجُ وَظَهَرَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَتَحَقِّقَ ہونے والا عیسی نازل ہو چکا نیز دجال کا خروج بھی ہو چکا النَّسْلُ وَالْعُرُوجُ وَتَمَتِ الْأَخْبَارُ التنى اور یا جوج و ماجوج بھی ظاہر ہو گئے اور ان کے دنیا میں قيّرَتْ وَالرُّسُلُ أُقِتَتْ فَلَمَّا قُلْنَا إِنَّ پھیل جانے اور اسلام کے آسمان پر چڑ جانے کی خبر بھی زَمَانَ أُمَّةٍ مُوسَى كَانَ بَيْنَ هَذِهِ الْأُمَمِ پوری ہوگئی اور وہ تمام خبر میں پوری ہو گئیں جو مقدر تھیں الثَّلَاثِ أَظوّلَ الْأَزْمِنَةِ، وَكَانَ زَمَانُ أُمّة اور رسول جمع کر دیئے گئے۔اور جب ہم قرون ثلاثہ کی عِيسَى نِصْفَهُ، وَكَانَ نِصْفُ هَذَا النَّصْفِ حد بندی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امتِ موسیٰ کا زمانہ زَمَانَ أَخْيَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ نَظرًا إلى تَحْدِيدِ ان تینوں امتوں کے درمیان سب سے لمبا زمانہ تھا اور الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ، بطل هَذَا الْاِغْتِرَاضُ عیسی علیه السلام کی امت کا زمانہ اس سے نصف تھا اور وَالْكَشَفَ الْأَمْرُ عَلَى الَّذِي يَطلب الحق اس امت کے بہتری لوگوں کا زمانہ مذکورہ نصف کا نصف بِسَلامَةِ الطَّوِيَّةِ وَصمَةِ النِّيَّةِ وَثَبَتَ تھا تو مذکورہ اعتراض باطل ہو جاتا ہے اور اس شخص پر بالقطع وَالْيَقِينِ أَنَّ زَمَانَ الْأُمَّةِ حقیقت کھل جاتی ہے جو صاف دلی اور صحت نیت سے الْمَرْحُوْمَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ قَلِيْلٌ فِي الْحَقِيقَةِ حق کو معلوم کرنا چاہتا ہے اور قطعی طور پر یہ ثابت ہو جاتا مِنْ زَمَانِ الْأُمَّةِ الْمُوْسَوِيَّةِ وَالْعِيْسَوِيَّةِ ہے کہ امت محمدیہ کا زمانہ امت موسیٰ اور امت عیسی کے وَهَذِهِ مِنَةٌ مِنَا عَلَى الْمُخَالِفِينَ مِنَ الْفِرقِ زمانہ سے کم ہے اور فرقہائے اسلام میں سے مخالفین پر یہ الْإِسْلَامِيَّةِ، وَلَمْ يَبْقَ لِعَاقِلِ ارْتِيَاب في ہمارا احسان ہے اور کسی عقل مند کے لئے اس بیان کے هَذَا الْبَيَانِ، بَلْ هُوَ مُوَجِبْ لِتَلْجِ الصَّدْرِ بعد شک کی گنجائش نہیں رہتی بلکہ یہ دل کے اطمینان اور وَالْإِطْمِفْنَانِ وَبَطَلَ مَعَهُ اغْتِرَاضٌ يَرِدُ تسلی کا موجب ہے اور اس کے ساتھ وہ اعتراض باطل