تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 352
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۵۲ سورة العصر وَاتَّفَقَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْكِتَابِ مِنْ غَيْرِ گواہی دی ہے اور اہلِ کتاب بھی بغیر اختلاف کے اس خِلَافٍ، فَمَا الْمِقْدَارُ الَّذِي هُوَ أَقَلُّ مِن بات پر متفق ہیں۔پس وہ مقدار کون سی ہے جو اس مقدار هذَا الْمِقْدَارٍ أَلَيْسَ هُوَ آخِرُ وَقتِ سے کم ہو۔تم انصاف سے ہمیں بتاؤ کیا یہ عصر کا آخری وقت الْعَصْرِ أَجِبْنَا بِالْإِنْصَافِ وَلَوْ نہیں ہے۔اگر تم اس امر کو قبول کرنے میں گریز سے کام لوتو تَعَشَفتَ كُلَّ التَّعَسُّفِ ثُمَّ مَعَ ذَلِكَ لا اس کے باوجود تمہیں اس اقرار سے کوئی چارہ نہیں کہ باقی بُنَّ لَك أَن تُقِرّ بِأَنَّهُ أَقَلُّ مِنَ النِّصْفِ رہنے والی مدت بغیر اختلاف کے نصف سے بھی کم ہے۔بِغَيْرِ الْإخْتِلافِ فَقَدِ اعْتَرَفت پس صحیح طریق سے ہٹ جانے کے باوجود تم نے اپنی اس يدَعْوَانَا بِقَوْلِكَ هذا مع هذا بات کے ساتھ ہمارے دعوی کو تسلیم کر لیا۔اس بات سے تم سرلیا الاعْتِسَافِ فَلَوْمَ لَكَ أَنْ تُقِرّ أَنَّ مِن پر یہ لازم آتا ہے کہ تم اس بات کا بھی اقرار کرو کہ آدم علیہ مدَّةٍ عَهْدِ ادَمَ مَا كَانَتْ بَاقِيَةً إِلى عَهْدِ السلام کے زمانہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رَسُوْلِ اللهِ إِلَّا أَلْفَيْنِ وَعِدَّةً مِّن مِّتَيْنِ زمانہ تک دنیا کی عمر صرف دو ہزار اور چند سو سال باقی رہ گئی وَهَذَا هُوَ دَعْوَانَا فَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ تھی اور یہی ہمارا دعوی ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الْعَالَمِينَ، فَإِذَا تَقُولُ إِنَّا بُعِنَا عَلَی ہم کہتے ہیں کہ ابو البشر آدم علیہ السلام کے سلسلہ کے رأس ألف أخر من أُلُوفِ سِلْسِلَةِ أَبِي ہزاروں برسوں کے آخری سال کے سرے پر ہم مبعوث البَشَرِ وَخَالَمَةِ الْأَلْفِ السَّادِیس پائن کئے گئے ہیں یعنی اللہ ارحم الراحمین کے حکم سے چھٹے ہزار اللهِ أَرْحَم الرَّاحِمِينَ۔وَهُذَا هُوَ زَمَانُ سال کے خاتمہ پر۔اور یہ اس مسیح کا زمانہ ہے جو آخری الْمَسِيحِ الَّذِى هُوَ ادَهُ آخِرِ الزَّمَانِ زمانہ کا آدم ہے اے زیادتی سے کام لینے والے یہی وہ وَهَذِهِ هِى تحمى التي أَقْرَرْتَ بِهَا يَا أَبَا میری دلیل ہے جس کے صحیح ہونے کا تم نے اقرار کر لیا ہے۔الْعُدْوَانِ فَانْظُرْ أَنَّكَ صُفنت حَقٌّ پس دیکھو تم کس طرح مکمل طور پر جکڑ دیئے گئے ہو۔اور ہر التَّصْفِيدِ وَكَذَالِكَ يُصَقَدُ كُلُّ مَن و شخص جو اہل عرفان سے اعراض کرے اسے اسی طرح جکڑ أَعْرَضَ عَنْ أَهْلِ الْعِرْفَانِ وَاللهِ مَا نَتَأَنَا دیا جاتا ہے۔اللہ کی قسم ! اس نے ہمیں قیامت کے وقت بِالسَّاعَةِ، وَنَبَّأَنَا بِالأَلْفِ الَّذِي تَقَعُ کے متعلق کچھ نہیں بتلایا ہاں ہمیں اس ہزار سال کی خبر دی السَّاعَةُ فِيْهَا، وَعَزَّفَ بَعْضَ الْحَالاتِ ہے جس میں قیامت برپا ہوگی۔اور اس نے ہمیں بعض