تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 344
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۴ سورة التكاثر بچے وفادار اور صادق مرد ہوتے ہیں کہ نہ دنیا کے لذات کے نظارے انہیں گمراہ کر سکتے ہیں اور نہ اولاد کی محبت اور نہ بیوی کا تعلق اُن کو اپنے محبوب حقیقی سے برگشتہ کر سکتا ہے۔غرض کوئی تلخی اُن کو ڈرا نہیں سکتی اور کوئی نفسانی لذت اُن کو خدا سے روک نہیں سکتی اور کوئی تعلق خدا کے تعلق میں رخنہ انداز نہیں ہوسکتا۔یہ تین روحانی مراتب کی حالتیں ہیں جن میں سے پہلی حالت علم الیقین کے نام سے موسوم ہے اور دوسری حالت عین الیقین کے نام سے نامزد ہے اور تیسری مبارک اور کامل حالت حق الیقین کہلاتی ہے۔اور انسانی معرفت کامل نہیں ہوسکتی اور نہ کدورتوں سے پاک ہو سکتی ہے جب تک حق الیقین تک نہیں پہنچتی۔کیونکہ حق الیقین کی حالت صرف مشاہدات پر موقوف نہیں بلکہ یہ بطور حال کے انسان کے دل پر وارد ہو جاتی ہے اور انسان محبت الہی کی بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑ کر اپنے نفسانی وجود سے بالکل نیست ہو جاتا ہے اور اس مرتبہ پر انسانی معرفت پہنچ کر قال سے حال کی طرف انتقال کرتی ہے اور سفلی زندگی بالکل جل کر خاک ہو جاتی ہے اور ایسا انسان خدا تعالیٰ کی گود میں بیٹھ جاتا ہے اور جیسا کہ ایک لوہا آگ میں پڑ کر بالکل آگ کی رنگ میں آجاتا ہے اور آگ کی صفات اُس سے ظاہر ہونی شروع ہو جاتی ہیں ایسا ہی اس درجہ کا آدمی صفات الہیہ سے خلقی طور پر متصف ہو جاتا ہے۔اور اس قدر طبعاً مرضات الہیہ میں فنا ہو جاتا ہے کہ خدا میں ہوکر بولتا ہے اور خدا میں ہو کر دیکھتا ہے اور خدا میں ہو کر سنتا ہے اور خدا میں ہو کر چلتا ہے گویا اُس کے جبہ میں خدا ہی ہوتا ہے۔اور انسانیت اُس کی تجلیات الہیہ کے نیچے مغلوب ہو جاتی ہے چونکہ یہ مضمون نازک ہے اور عام فہم نہیں اس لئے ہم اس کو اسی جگہ چھوڑتے ہیں۔اور ایک دوسرے پیرایہ میں ہم اس مرتبہ ثالثہ کی جو علی اور اکمل مرتبہ ہے اس طرح پر تصویر کھینچتے ہیں کہ وہ وحی کامل جو اقسام ثلاثہ میں سے تیسری قسم کی وحی ہے جو کامل فرد پر نازل ہوتی ہے اُس کی یہ مثال ہے کہ جیسے سورج کی دھوپ اور شعاع ایک مصلی آئینہ پر پڑتی ہے جو عین اس کے مقابل پر پڑا ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ اگرچہ سورج کی دھوپ ایک ہی چیز ہے لیکن بوجہ اختلاف مظاہر کے اس کے ظہور کی کیفیت میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔پس جب سورج کی شعاع زمین کے کسی ایسے کثیف حصہ میں پڑتی ہے جس کی سطح پر ایک شفاف اور مصفی پانی موجود نہیں بلکہ سیاہ اور تار یک خاک ہے اور سطح بھی مستوی نہیں تب شعاع نہایت کمزور ہوتی ہے خاص کر اس حالت میں جبکہ سورج اور زمین میں کوئی بادل بھی حائل ہو۔لیکن جب وہی شعاع جس کے آگے کوئی بادل حائل نہیں ایک شفاف پانی پر پڑتی ہے جو ایک مصفا آئینہ کی طرح چہکتا ہے تب وہی شعاع