تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 342
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۲ سورة التكاثر اس کے دل پر بکلی احاطہ کر کے ہر ایک ظلمت و قبض و تنگی کو درمیان سے اٹھادیں یہاں تک کہ بوجہ کمال رابطہ عشق و محبت و باعث انتہائی جوش صدق و صفا کی بلا اور مصیبت بھی محسوس اللذت و مدرک الحلاوت ہو تو اس درجہ کا نام اطمینان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں حق الیقین اور فلاح اور نجات سے بھی تعبیر کرتے ہیں مگر یہ سب مراتب ایمانی مرتبہ کے بعد ملتے ہیں اور اس پر مترتب ہوتے ہیں۔جو شخص اپنے ایمان میں قوی ہوتا ہے وہ رفتہ رفتہ ان سب مراتب کو پالیتا ہے لیکن جو شخص ایمانی طریق کو اختیار نہیں کرتا اور ہر یک صداقت کے قبول کرنے سے اول قطعی اور یقینی اور نہایت واشگاف ثبوت مانگتا ہے اس کی طبیعت کو اس راہ سے کچھ مناسبت نہیں اور وہ اس لائق ہر گز نہیں ہو سکتا کہ اس قادر غنی بے نیاز کے فیوض حاصل کرے۔سرمه چشم آریده، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۳ تا ۷۹ ) علم تین قسم پر ہوتا ہے (۱) ایک علم الیقین جیسا کہ کوئی دور سے دھواں دیکھ کر یہ قیاس کرے کہ اس جگہ ضرور آگ ہوگی (۲) دوسرا عین الیقین جیسا کہ کوئی اُس آگ کو اپنی آنکھ سے دیکھ لے(۳) تیسر احق الیقین جیسا کہ کوئی اُس آگ میں ہاتھ ڈال کر اُس کی گرمی محسوس کر لے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰ حاشیه ) آسمانی نشانوں سے حصہ لینے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔اوّل وہ جو کوئی ہنرا اپنے اندر نہیں رکھتے اور کوئی تعلق خدا تعالیٰ سے اُن کا نہیں ہوتا صرف دماغی مناسبت کی وجہ سے اُن کو بعض سچی خوا ہیں آجاتی ہیں اور بچے کشف ظاہر ہو جاتے ہیں جن میں کوئی مقبولیت اور محبوبیت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے اور اُن سے کوئی فائدہ اُن کی ذات کو نہیں ہوتا اور ہزاروں شریر اور بد چلن اور فاسق و فاجر ایسی بد بو دار خوابوں اور الہاموں میں اُن کے شریک ہوتے ہیں اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ باوجود ان خوابوں اور کشفوں کے اُن کا چال چلن قابل تعریف نہیں ہو تا کم سے کم یہ کہ اُن کی ایمانی حالت نہایت کمزور ہوتی ہے اس قدر کہ ایک سچی گواہی بھی نہیں دے سکتے اور جس قدر دنیا سے ڈرتے ہیں خدا سے نہیں ڈرتے اور شریر آدمیوں سے قطع تعلق نہیں کر سکتے اور کوئی ایسی سچی گواہی نہیں دے سکتے جس سے بڑے آدمی کے ناراض ہو جانے کا اندیشہ ہوا اور دینی امور میں نہایت درجہ کسل اور شستی ان میں پائی جاتی ہے اور دنیا کے ہموم و عموم میں دن رات غرق رہتے ہیں اور دانستہ جھوٹ کی حمایت کرتے اور بیچ کو چھوڑتے ہیں اور ہر ایک قدم میں خیانت پائی جاتی ہے اور بعض میں اس سے بڑھ کر یہ عادت بھی پائی گئی ہے کہ وہ فسق و فجور سے بھی پر ہیز نہیں کرتے اور دنیا کمانے