تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 341
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۱ سورة التكاثر ناکارہ ہیں۔کو عنقریب علم ہو جائے گا تم كَلاَ سَوْفَ تَعْلَمُونَ پھر تم کو اطلاع دی جاتی ہے کہ عنقریب تم کو علم ہو جاوے گا کہ جن خواہشات کے پیچھے تم پڑے ہو وہ ہر گز تمہارے کام نہ آویں گی اور حسرت کا موجب ہوں گی گلا کو تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ اگر تم کو یقینی علم حاصل ہو جاوے تو تم علم کے ذریعہ سے سوچ کر اپنے جہنم کو دیکھ لو اور تم کو پتہ لگ جاوے کہ تمہاری زندگی جہنمی زندگی ہے اور جن خیالات میں تم رات دن لگے ہوئے ہو وہ بالکل البدر جلد ۴ نمبر ۳ مورخه ۲۰ /جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۲) جاننا چاہیے کہ قرآن شریف نے علم تین قسم پر قرار دیا ہے۔(۱) علم الیقین، (۲) عین الیقین، (۳) حق الیقین جیسا کہ ہم پہلے اس سے سورہ الفكم التكاثر کی تفسیر میں ذکر کر چکے ہیں اور بیان کر چکے ہیں کہ علم الیقین وہ ہے کہ شے مقصود کا کسی واسطہ کے ذریعہ سے نہ بلا واسطہ پتہ لگایا جاوے جیسا کہ ہم دھوئیں سے آگ کے وجود پر استدلال کرتے ہیں ہم نے آگ کو دیکھا نہیں مگر دھوئیں کو دیکھا ہے کہ جس سے ہمیں آگ کے وجود پر یقین آیا۔سویہ علم الیقین ہے۔اور اگر ہم نے آگ کو ہی دیکھ لیا ہے تو یہ بموجب بیان قرآن شریف یعنی سوره الهكم التكاثر کے علم کے مراتب میں عین الیقین کے نام سے موسوم ہے اور اگر ہم اس آگ میں داخل بھی ہو گئے ہیں تو اس علم کے مرتبہ کا نام قرآن شریف کے بیان کی رو سے حق الیقین ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۱) ایمان اس اقرار لسانی و تصدیق قلبی سے مراد ہے جو تبلیغ و پیغام کسی نبی کی نسبت محض تقویٰ اور دوراندیشی کے لحاظ سے صرف نیک فلنی کی بنیاد پر یعنی بعض وجوہ کو معتبر سمجھ کر اور اس طرف غلبہ اور رجحان پا کر بغیر انتظار کامل اور قطعی اور واشگاف ثبوت کے دلی انشراح سے قبولیت و تسلیم ظاہر کی جائے لیکن جب ایک خبر کی صحت پر وجوہ کا ملہ قیاسیہ اور دلائل کا فیہ عقلیہ مل جائیں تو اس بات کا نام ایقان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں علم الیقین بھی کہتے ہیں اور جب خدائے تعالیٰ خود اپنے خاص جذبہ اور موہبت سے خارق عادت کے طور پر انوار ہدایت کھولے اور اپنے آلاء و نعماء سے آشنا کرے اور لڈنی طور پر عقل اور علم عطا فرما دے اور ساتھ اس کے ابواب کشف اور الہام بھی منکشف کر کے عجائبات الوہیت کا سیر کراوے اور اپنے محبوبانہ حسن و جمال پر اطلاع بخشے تو اس مرتبہ کا نام عرفان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں عین الیقین اور ہدایت اور بصیرت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔اور جب ان تمام مراتب کی شدت اثر سے عارف کے دل میں ایک ایسی کیفیت حالی عشق اور محبت کے باز نہ تعالیٰ پیدا ہو جائے کہ تمام وجود عارف کا اس کی لذت سے بھر جائے اور آسمانی انوار :