تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 334
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۴ سورة الزلزال ماجوج کا وجود اس بات پر کامل دلیل ہے کہ جو کچھ ارضی قو تیں اور طاقتیں انسان کے وجود میں ودیعت ہیں وہ سب ظہور میں آگئی ہیں کیونکہ اس قوم کی فطرتی اینٹ ارضی کمالات کے پڑاوہ میں ایسے طور سے پختہ ہوئی ہے کہ اس میں کسی کو بھی کلام نہیں۔اسی سر کی وجہ سے خدا نے ان کا نام یا جوج ماجوج رکھا کیونکہ ان کی فطرت کی مٹی ترقی کرتے کرتے کانی جواہرات کی طرح آتشی مادہ کی پوری وارث ہوگئی اور ظاہر ہے کہ مٹی کی ترقیات آخر جواہرات اور فلذات معدنی پر ختم ہو جاتی ہیں تب معمولی مٹی کی نسبت ان جواہرات اور فلذات میں بہت سا مادہ آگ کا آجاتا ہے گویا مٹی کا انتہائی کمال نے کمال یافتہ کو آگ کے قریب لے آتا ہے اور پھر جنسیت کی کشش کی وجہ سے دوسرے آتشی لوازم اور کمالات بھی اسی مخلوق کو دیئے جاتے ہیں۔تحفہ گولر و سید، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۲۲ حاشیه ) آج جو اخْرَجَتِ الْأَرْضُ القَالها کا زمانہ ہے یہ مسیح موعود ہی کے وقت کے لئے مخصوص تھا چنانچہ اب دیکھو کہ کس قدر ایجادیں اور نئی کا نہیں نکل رہی ہیں۔ان کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی ہے۔میرے نزدیک طاعون بھی اسی میں داخل ہے۔اس کی جڑ زمین میں ہے۔پہلا اثر چوہوں پر ہوتا ہے۔غرض اس وقت جبکہ زمینی علوم کمال تک پہنچ رہے ہیں تو ہین اسلام کی حد ہو چکی ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ اس پچاس ساٹھ سال میں جس قدر کتابیں ، اخبار ، رسالے تو ہین اسلام میں شائع ہوئے ہیں کبھی ہوئے تھے۔پس جب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے تو کوئی مومن نہیں بنتا جب تک کہ اس کے دل میں غیرت نہ ہو۔بے غیرت آدمی دیوث الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۱ صفحہ ۷) یوں تو زمین سے ہمیشہ کا نہیں نکلتی رہتی ہیں اور آتش فشاں پہاڑ پھٹتے رہتے ہیں مگر اب خصوصیت سے ان زلزلوں کا آنا اور زمین کا الٹنا یہ آخری زمانہ کی علامتوں سے ہے اور اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَھا اسی کی طرف اشارہ ہے۔زمانہ بتلا رہا ہے کہ وہ ایک نئی صورت اختیار کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ خاص تصرفات زمین پر کرنا البدر جلد اول نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۰) ہوتا ہے۔چاہتا ہے۔جو شخص ایک ذرہ بھر بھی نیک کام کرے وہ بھی ضائع نہیں ہوگا اور ضرور اس کا اجر پائے گا۔(انوارالاسلام،روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۵۶) اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔۔۔مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةً - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۶۲)