تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 333

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٣٣ سورة الزلزال زلزالھا میں حقیقت میں اسی دجالی زمانہ کی طرف اشارہ ہے جس کو ذرا بھی عقل ہوتو وہ سمجھ سکتا ہے اور یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ وہ قوم ارضی علوم میں کہاں تک ترقی کرے گی۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۴ تا ۳۱۷) خدا تعالیٰ کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہوگا۔جو نمونہ قیامت کا ہوگا بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہیے جس کی طرف سورت اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا اشارہ کرتی ہے۔برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۱ حاشیه ) سورہ اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ میں زلزلہ کے واسطے صاف پیشگوئی ہے کہ زمین پر سخت زلزلہ آئے گا اور زمین اندر کی چیزیں باہر نکال پھینکے گی۔۔۔۔قرآن شریف میں آیا ہے کہ پہاڑ زمین کی میخیں ہیں ، نادان اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے۔اس زلزلہ نے اس اعتراض کو بھی صاف کیا ہے۔ان آتش فشانیوں اور زلزلوں کا موجب یہ پہاڑ ہی ہوا کرتے ہیں۔جب پہاڑوں پر تباہی پڑتی ہے تو سب پر تباہی پڑتی ہے۔پہاڑ امن یا بے امنی کا مرکز بنا ہوا ہے۔( بدر جلد نمبر ۷ مورخہ ۱۸ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحہ ۷) یا جوج ماجوج کی سرشت میں ارضی جو ہر کا کمال تام ہے جیسا کہ معدنی جواہرات اور فلذات میں کمال تام ہوتا ہے اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ زمین نے اپنے انتہائی خواص ظاہر کر دیے اور بموجب آیت اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ الْقَالَهَا اپنے اعلیٰ سے اعلیٰ جو ہر کو ظاہر کر دیا اور یہ امر استدارت زمانہ پر ایک دلیل ہے۔یعنی جب یا جوج ماجوج کی کثرت ہوگی تو سمجھا جائے گا کہ زمانہ نے اپنا پورا دائرہ دکھلا دیا اور پورے دائرہ کور جعت بروزی لازم ہے اور یا جوج ماجوج پر ارضی کمال کا ختم ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ گویا آدم کی خلقت الف سے شروع ہو کر جو آدم کے لفظ کے حرفوں میں سے پہلا حرف ہے اس یاء کے حرف پر ختم ہوگئی کہ جو یا جوج کے لفظ کے سر پر آتا ہے جو حروف کے سلسلہ کا آخری حرف ہے گویا اس طرح پر یہ سلسلہ الف سے شروع ہو کر اور پھر حرف یاء پر ختم ہو کر اپنے طبعی کمال کو پہنچ گیا۔خلاصہ کلام یہ کہ آیت ممدوحہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بروز می رجوع جو استدارت دائرہ خلقت بنی آدم کے لئے ضروری ہے۔اس کی نشانی یہ ہے کہ یا جوج ماجوج کا ظہور اور خروج اقوئی اور اتم طور پر ہو جائے اور ان کے ساتھ کسی غیر کو طاقت مقابلہ نہ رہے کیونکہ دائرہ کے کمال کو یہ لازم ہے کہ اخرجت الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا کا مفہوم کامل طور پر پورا ہو جائے اور تمام ارضی قوتوں کا ظہور اور بروز ہوجائے اور یاجوج