تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 332

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۳۲ سورة الزلزال موجود کو چھپایا اور معدوم کو ظاہر کیا اور دعوئی کے ساتھ ایسے محرف طور پر معنے کئے کہ گویا اُن پر وحی نازل ہوئی اور وہ نبی ہیں۔چنانچہ ہمیشہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ مناظرات اور مباحثات کے وقت ایسے بیہودہ اور دور از صدق جواب عمداً دیتے ہیں کہ گویا وہ ایک نئی انجیل بنا رہے ہیں۔ایسا ہی اُن کی تالیفات بھی کسی نے عیسی اور نئی انجیل کی طرف رہبری کر رہی ہیں اور وہ جھوٹ بولنے کے وقت ذرہ ڈرتے نہیں اور چالا کی کی راہ سے کروڑہا کتا بیں اپنے اس کا ذبانہ دعوے کے متعلق بنا ڈالیں گویا وہ دیکھ آئے ہیں کہ حضرت عیسی خدائی کی کرسی پر بیٹھے ہیں اور خُدائی کا اس طرح پر دعوی کیا کہ خدائی کاموں میں حد سے زیادہ دخل دے دیا اور چاہا کہ زمین و آسمان میں کوئی بھی ایسا بھید مخفی نہ رہے جو وہ اُس کی تہ تک نہ پہنچ جائیں اور ارادہ کیا کہ خدا تعالیٰ کے سارے کاموں کو اپنی مٹھی میں لے لیں اور ایسے طور سے خدائی کی گل اُن کے ہاتھ میں آجائے کہ اگر ممکن ہو تو سورج کا غروب اور طلوع بھی انہیں کے اختیار میں ہی ہو اور بارش کا ہونا نہ ہونا بھی ان کے اپنے ہاتھ کی کارستانی پر موقوف ہو اور کوئی بات ان کے آگے انہونی نہ رہے اور دعوی خدائی اور کیا ہوتا ہے یہی تو ہے کہ خدائی کاموں میں اور خدا تعالیٰ کی خاص قدرتوں میں ہی دست اندازی کریں اور یہ شوق پیدا ہو کہ کسی طرح اس کی جگہ بھی ہم ہی لے لیں۔وہ لوگ جو احادیث مسیح موعود اور احادیث متعلقہ دجال پر حرف زنی کرتے ہیں اُن کو اس مقام میں بھی غور کرنی چاہیئے کہ اگر یہ پیشگوئیاں خدائے تعالی کی طرف سے نہ ہوتیں اور صرف انسان کا کاروبار ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ ایسی صفائی اور عمدگی سے پوری ہوتیں کیا یہ بھی کبھی کسی کے گمان میں تھا کہ یہ قوم نصاری کسی زمانہ میں انسان کے خدا بنانے میں اس قدر کوششیں اور جعلسازیاں کریں گے اور فلسفی تحقیقاتوں میں خدا کے لئے کوئی مرتبہ خصوصیت نہیں چھوڑیں گے۔دیکھو خر دجال جس کے مابین اذنین کا نتر باع کا فاصلہ لکھا ہے ریلوں کی گاڑیوں سے بطور اغلب اکثر بالکل مطابق آتا ہے اور جیسا کہ قرآن اور حدیث میں آیا ہے کہ اس زمانہ میں اونٹ کی سواریاں موقوف ہو جائیں گی ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ریل کی سواری نے ان تمام سواریوں کو مات کر دیا اور اب ان کی بہت ہی کم ضرورت باقی رہی ہے اور شائد تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر ضرورت بھی باقی نہ رہے ایسا ہی ہم نے بچشم دیکھا کہ در حقیقت اس قوم کے علماء و حکماء نے دین کے متعلق وہ فتنے ظاہر کئے کہ جن کی نظیر حضرت آدم سے لے کرتا ایں دم پائی نہیں جاتی۔پس بلاشبہ نبوت میں بھی انہوں نے مداخلت کی اور خدائی میں بھی۔اب اس سے زیادہ ان احادیث کی صحت کا کیا ثبوت ہو کہ ان کی پیشگوئی پوری ہو گئی اور قرآن کریم کی ان آیات میں یعنی إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ