تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 325
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۵ سورة البينة بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا تو اور ہی رنگ میں اور اور ہی شان میں ہے جا اپنے کام میں لگارہ جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱۱) دیکھو اس آیت کے رو سے ایک ایسے گروہ کو شر البر یہ کہا گیا ہے جس میں سے گروہ دجال ہے اور ایسے گروہ کو خیر البریہ کہا گیا ہے جو امت محمدیہ ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۲۱) انسان کو چاہیے کہ اپنا فرض ادا کرے اور اعمال صالحہ میں ترقی کرے۔الہام کرنا اور رویا دکھانا یہ تو خدا کا فعل ہے اس پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔اپنے اعمال کو درست کرنا چاہیے۔خدا فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ دو امَنُوا وَ عَمِلُوا الظَّلِحَتِ أُولَيكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ یہ نہیں کہا کہ جن کو کشوف اور الہامات ہوتے ہیں وہ خَیرُ الحکم جلد نمبر ۱ ۴ مورخہ ۷ ۱نومبر ۱۹۰۷ ، صفحہ ۱۳) الْبَرِيَّةِ ہیں۔